انوارالعلوم (جلد 17) — Page 611
انوار العلوم جلد ۷ ۶۱۱ الموعود روپے ۱۲ آ نے ۹ پائی کی آمد ہوئی۔صیغہ بدوملہی سکول میں ۷۸۶۲ رو پے ۱۱ آنے ۹ پائی آئے اور صیغہ متفرق غیر معمولی میں ۵۰۰۰۰ کا تخمینہ بتایا گیا مگر یہ پچاس ہزار روپیہ محض بجٹ کو زیادہ دکھانے کیلئے رکھا جاتا ہے۔اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ اگر دورانِ سال میں کوئی خاص ضرورت پیش آ جائے تو وہ اس صیغہ سے پوری کی جائے۔بہر حال ۳۸۔۱۹۳۷ ء میں ۲۰۶۰۶۵ آمد کا تخمینہ بتایا گیا۔لیکن اصل آمد جو 9 ماہ میں ہوئی وہ آئندہ تین ماہ کی آمد کے تخمینہ کے ساتھ صرف ۱۶۲۶۶۶ روپے ۸آنے ۶ پائی ہے۔اس ایک لاکھ باسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپیہ میں سے اگر پچاس ہزار دست غیب والی آمد نکال دی جائے تو ایک لاکھ بارہ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپیہ رہ جاتا ہے اور یہ روپیہ وہ ہے جس میں کتب کی آمد بھی شامل ہے ، سکولوں کی آمد بھی شامل ہے ، زمینوں کی آمد بھی شامل ہے اور چندہ عام کا 9 ماه کا۹۰۲۹۹ روپے ۸ آنے ۶ پائی بھی شامل ہے۔گویا اصل میں اُن کی آمد صرف ایک لاکھ کے قریب قریب ہے۔جسے انہوں نے سوا چار لاکھ روپیہ قرار دیا ہے اور اسے اپنی ساٹھ گنا ترقی کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔مجھے بعض معتبر ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اُن کا اغراض عامہ کا بجٹ اِس سال نوے ہزار روپیہ کا ہے اور باقی دوسری مدات کا۔جن میں سے کچھ وقتی چندے ہیں اور کچھ فرضی۔اس کے مقابلہ میں اُنہوں نے ہمارا بجٹ اول تو صرف چھ لاکھ روپیہ سالانہ کا بتایا ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ہمارا بجٹ آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ کا ہوتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کی آمد وخرچ کے بجٹ میں ہماری زمینوں کی آمد کا بجٹ شامل نہیں ہوتا۔اسی طرح تحریک جدید کا چندہ اس سے علیحدہ ہوتا ہے۔اگر تحریک جدید کا چندہ اس میں شامل کیا جائے تو وہ سوا تین لاکھ روپیہ کے قریب ہوتا ہے۔آٹھ لاکھ وہ اور سوا تین لاکھ یہ سوا گیارہ لاکھ روپیہ ہو گیا۔پھر کالج کا چندہ اس میں شامل نہیں جو ڈیڑھ لاکھ کے قریب اکٹھا ہوا۔مساجد کا چندہ اس میں شامل نہیں حالانکہ تھیں ہزار روپیہ کے وعدے تحریک مساجد میں صرف دہلی کی جماعت نے پیش کئے اور ۶۶ ہزار روپیہ کلکتہ والوں نے جمع کیا مسجد مبارک کی توسیع کے لئے جو چندہ ہوا وہ اس سے علیحدہ ہے۔اسی طرح تین لاکھ