انوارالعلوم (جلد 17) — Page 606
انوار العلوم جلد ۷ ۶۰۶ الموعود تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کیا“ اسی طرح اگر میں کھڑا ہوا تو میرے کھڑے ہونے کو خدا تعالیٰ کا کھڑا کرنا کیوں نہ کہا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ جن معنوں میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اُنہی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا بلکہ ایک زائد امر یہ ہے کہ اُنہوں نے الہام سے کھڑے ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اس دعوی کے بارہ میں مجھے الہی اشارہ ہوا اور میں نے الہا ما دنیا کے سامنے اپنے مصلح موعود ہونے کا دعوئی پیش کیا۔پانچواں اعتراض ایک اعتراض مولوی صاحب نے یہ کیا ہے کہ مجھے خواب میں یہ نہیں۔کہا گیا کہ میں مصلح موعود ہوں یہ تو میں نے اجتہاد کیا ہے۔مگر یہ اعتراض بھی درست نہیں۔خواب میں صراحتا یہ باتیں موجود ہیں۔چنانچہ رویا میں میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ : أَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيلُهُ وَخَلِيفَتُهُ میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی مسیح موعود کا مثیل اور اُس کا خلیفہ۔اور میں نے بتایا ہے کہ خواب میں ہی یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ مَثِيْلُهُ وَخَلِیفَتہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کا مصداق ہوں جو آپ نے ایک موعود کے متعلق فرمائی تھی اور جس کے متعلق بتایا تھا کہ وہ حسن واحسان میں میرا نظیر ہو گا۔اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو مصلح موعود کے متعلق ہے۔پس یہ کہنا کہ خواب میں اس امر کا کہیں ذکر نہیں کہ مجھے مصلح موعود قرار دیا گیا ہے، غلط ہے۔یہ الہامی الفاظ اور پھر ان الفاظ کی تشریح سب خواب کا حصہ ہیں اور مَشِيلُہ میں اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔چھٹا اعتراض ایک اعتراض مولوی صاحب کا یہ ہے جو پہلے بھی کئی دفعہ کر چکے ہیں که خوابوں کا کیا ہے خوا ہیں تو کن چنیوں کو بھی آجایا کرتی ہیں۔مولوی صاحب جب میرے متعلق سنتے ہیں کہ انہیں فلاں فلاں خوا میں آئی ہیں یا فلاں فلاں الہامات ہوئے ہیں تو انہیں بُرا لگتا ہے اور وہ یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتے