انوارالعلوم (جلد 17) — Page 590
انوار العلوم جلد کا ۵۹۰ نمائندگان مقیمی سرینگر عبدالرحیم صاحب درد اور مولانا اسماعیل غزنوی صاحب کے ساتھ اکثر تبادلۂ خیالات ہوتا رہتا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ آپ کو بتلا سکیں گے کہ حکومت ہند نے اس معاملہ میں کس قدر دلچسپی لی ہے۔( دراصل گورنمنٹ کشمیر نے مجھے لکھا تھا کہ اپنے دو نمائندے یہاں بھجوا دیں جن سے ہم وقتا فوقتا گفتگو کرتے رہیں۔اس پر میں نے مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی کو بطور نمائندہ بھجوا دیا تھا ) کسی قدر یہ ہمیں تسلی بھی تھی کہ صدر صاحب خود ریاست کی سرحد پر آ کر اپنے نمائندگان سے مل گئے ہیں اور تمام حالات معلوم کر گئے ہیں۔( یہ درست ہے میں ہزارے کی طرف جا کر کشمیر کے نمائندوں سے ملا تھا اور اُن سے میں نے تمام حالات معلوم کئے تھے ) صدر صاحب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ مساجد وغیرہ کے اعلان میں صدر صاحب اور ہماری منشاء کے خلاف ہمیں اعلان کو جلد شائع کرنے کے لئے کس طرح سے رائے دی گئی۔جو مجبوری کی حد تک پہنچ گئی ( میں نے انہیں کہا تھا کہ تم نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے اس پر وہ لکھتے ہیں کہ ہمیں کشمیر کے نمائندوں نے مجبور کیا تھا کہ ہم اس قسم کا اعلان کر دیں ) آپ نے صدر صاحب کے خیال کو اس شکل میں رکھا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ کسی مفید نتیجہ پر پہنچنے کی غرض سے گفتگو کر نا ہمارا مقصد نہیں۔یہ محض غلط فہمی ہے افسوس ہے کہ صدر صاحب نے ہماری مصروفیت اور مشکلات کا اندازہ نہیں کیا لیکن ہر بات کا علاج وقت اور میعاد ہے۔صدر صاحب عنقریب یقین کرنے پر تیار ہو جاویں گے کہ ہم معاملہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں یا مختصر اور کہاں تک اس کے مشورہ صائب کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔آپ کے لکھنے کے مطابق صدر صاحب کی خواہش محض مسلمانان کشمیر کو حقوق دلوانے کی ہے جس میں حکومت پورے طور سے خود مصروف ہے۔آپ کا صادق جیون لعل پرسنل اسسٹنٹ الموعود