انوارالعلوم (جلد 17) — Page 588
انوار العلوم جلد کا ۵۸۸ اس خط کا ترجمہ یہ ہے۔ہز ایکسی لنسی حضور وائسرائے نے فرمایا ہے کہ میں آپ کے خط مورخہ ۷/نومبر ۱۹۳۱ء کا شکر یہ ادا کروں۔ہز ایکسی لنسی کو اس بات کے معلوم ہونے پر افسوس ہوا کہ آپ اُن کے پہلے جواب کو نا تسلی بخش خیال فرماتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو آپ نے اور آپ کی جماعت نے کشمیر میں امن کی خاطر کوششیں فرمائی ہیں۔اُن کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا اور یہ کہ حکومت ہند نے اُس کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ہز ایکسی لنسی کو یقین ہے کہ اس کا باعث کوئی غلط فہمی ہے کیونکہ اُن کا ہرگز کبھی یہ ارادہ نہیں ہوا کہ آپ کی اور آپ کی جماعت کی اس وفا دارانہ امداد کو جو آپ ہمیشہ حکومت کی کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں کسی طرح استخفاف کی نظر سے دیکھا جائے۔لیکن آپ اس بات کو تسلیم فرمائیں گے کہ حکومت کے لئے یہ بات عملاً ناممکن ہے کہ کسی ہندوستانی ریاست کے اندرونی معاملات کے متعلق ریاست پر یہ زور دے کہ وہ کسی بیرونی کمیٹی کے ساتھ معاملہ کرے خواہ وہ کمیٹی کیسی ہی نیک نیت اور نمائندہ حیثیت رکھتی ہو اور اگر والی ریاست ایسا چاہے تو اس صورت میں ضروری ہے کہ اس بارہ میں براہ راست حکومت ہند کے ساتھ گفت و شنید کی جائے۔حضور وائسرائے نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں آپ کو یقین دلاؤں کہ انہوں نے شروع سے ہی سوال کشمیر پر پورے فکر اور ہمدردی کے ساتھ غور کیا ہے اور انہوں نے موجودہ مشکلات کے تسلی بخش اور پُر امن حل کا ذریعہ نکالنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا۔حضور وائسرائے آخری آدمی ہوں گے جو یہ کہیں کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔یا یہ کہ وہ صحیح وقت کیا گیا ہے۔لیکن وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کیا گیا ہے اس کا واحد مقصد یہی تھا کہ مہاراجہ صاحب اور اُن کی مسلمان رعایا کے مابین جلد سے جلد اور تسلی بخش تصفیہ ہو جائے اور انہیں امید ہے کہ اس معاملہ میں اُن کی کوششیں جلد ہی نتیجہ پیدا کریں گی اور یہ کہ مسلمانان کشمیر میں پھر اعتماد پیدا ہو جائے گا۔الموعود