انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 529

انوار العلوم جلد کا ۵۲۹ الموعود پیدا ہوں اُن میں سے کسی ایک پر یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی لیکن یہ علامت اس بات کا ثبوت نہیں ہوسکتی کہ پیشگوئی کا مصداق زید ہے یا بکر یا کوئی اور ہے اس لئے میں اس قسم کی علامتوں کو چھوڑتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک ان سے میعاد کی تعیین تو ہو جاتی ہے لیکن کسی فرد کی تعیین نہیں ہوتی۔پھر پیشگوئیوں کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن کو مومن تو مان سکتے ہیں مگر وہ غیروں کیلئے حجت نہیں ہو سکتے۔مثلاً یہ علامت کہ اُسے خدا کا قرب حاصل ہو گا اور اللہ تعالیٰ اُس سے محبت اور پیار کرے گا۔یہ علامت محض مومنوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جو لوگ ماننے والے ہیں وہ تو کہیں گے کہ واقعہ میں فلاں شخص کو خدا کا قرب حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ اُس سے محبت اور پیار کرتا ہے لیکن دوسرے لوگ اس بات کو نہیں مان سکتے۔وہ کہیں گے کہ یہ محض ڈھکوسلا ہے کہ فلاں کو خدا کا قرب حاصل ہے ، ہم اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے۔لیکن بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جو غیروں کے لئے بھی دلیل اور حجت ہوتے ہیں اور وہ پیشگوئیوں میں اس لئے رکھے جاتے ہیں تا کہ غیروں سے بھی منوایا جائے کہ یہ پیشگوئی فلاں شخص کے ذریعہ پوری ہوگئی ہے۔میں اس وقت بعض ایسے حصے ہی اس پیشگوئی کے لیتا ہوں جو میرے نزدیک غیروں کیلئے بھی دلیل بن سکتے ہیں اور دشمن سے دشمن بھی پیشگوئی کے ان حصوں کے پورا ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔آنے والے موعود کی باون علامات جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ بڑی تفصیلی پیشگوئی ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ آنے والا اپنے اندر کئی قسم کی خصوصیات رکھتا ہو گا۔چنانچہ اگر اس پیشگوئی کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں آنے والے موعود کی یہ یہ علامتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قدرت کا نشان ہو گا۔دوسری علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ رحمت کا نشان ہوگا۔تیسری علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قربت کا نشان ہوگا۔چوتھی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ فضل کا نشان ہو گا۔پانچویں علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ احسان کا نشان ہوگا۔