انوارالعلوم (جلد 17) — Page 468
۴۶۸ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) انوار العلوم جلد ۱۷ اس لئے میں پھر اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ کمیونزم کا خطرہ ہے۔جماعت کو اس خطرہ کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جانا چاہئے۔ہمیں آخری لڑائی اسی فتنہ کے ساتھ لڑنی پڑے گی کیونکہ اس کی بنیاد دہریت پر ہے یہ فتنہ ہر جگہ پھیل رہا ہے اور ہمارے صوبہ میں بھی زور پکڑ رہا ہے اور ہمیں اطلاع ملی ہے کہ کمیونسٹ قادیان پر خصوصیت کے ساتھ حملہ کرنا چاہتے ہیں۔پہلے بھی یہاں اس فتنہ کو پھیلانے کی کوشش کی جاچکی ہے۔ایک دفعہ یہاں سکھ کمیونسٹ آیا اور مسلمان بن کر رہا اور ایک غیر احمدی ، احمدی بن کر رہا۔انہوں نے آہستہ آہستہ یہاں اپنے خیالات پھیلانے کی کوشش کی لیکن مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہاں لوگ خصوصیت کے ساتھ قادیان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ہماری جماعت کو اس فتنہ کے مقابلہ کیلئے پوری طرح تیار ہو جانا چاہئے۔اس فتنہ کی بنیاد دہریت پر ہے اور یہ لوگ اس طرح اللہ تعالیٰ کی ہنسی اُڑاتے ہیں کہ ایک مومن سننا بھی پسند نہیں کر سکتا۔مثلاً روس میں ایسے ڈرامے کئے جاتے ہیں کہ ایک شخص حج بنتا ہے اور اس کے سامنے نَعُوذُ بِاللهِ خدا تعالیٰ کو ملزم کی حیثیت میں پیش کیا جاتا ہے اور اُس پر یہ الزام لگائے جاتے ہیں کہ اُس نے دنیا میں امراء پیدا کئے ہیں اور بعض کو غریب پیدا کیا ہے اور کہ یہ دنیا پر مصائب نازل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ اور حج اُس کے متعلق فیصلہ دیتا ہے کہ اُسے پھانسی دے دیا جائے۔اور پھر ایک مجسمہ کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے۔اس فتنہ کو مذہب کے مقابل پر کھڑا کیا جا رہا ہے۔مگر یہ لوگ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ مذہب میں کوئی دخل نہیں دیتے اور اس میں بچوں کو ماؤں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور پھر اُن کو دہریت کی تعلیم دی جاتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہم ان کو آزاد خیال بناتے ہیں تو اس کا مقابلہ ہمیں سب سے زیادہ کرنا پڑے گا۔دہریت اور عیسائیت سے ہمارا مقابلہ عیسائیت سے بھی ہمارا مقابلہ ہے اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کا شریک بناتی ہے اور اسے صفت خلق سے جواب دیتی ہے مگر یہ لوگ تو خدا تعالیٰ کو خدائی سے ہی جواب دیتے ہیں۔پس یہ سب سے بڑے دشمن ہیں اور ہمیں ان کا پوری طرح مقابلہ کرنا ہوگا۔میں جماعت کے مصنفین اور مضمون نگاروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان کا لٹریچر پڑھیں اور جماعت کو