انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 264

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۶۴ اہالیان لدھیانہ سے خطاب سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جارہی ہیں۔جیسے خطبہ الہامیہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا۔غرض میرا کلام اُس وقت بند ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے۔بولتے بولتے میں بڑے زور سے ایک شخص کو جو غالباً سب سے پہلے ایمان لایا تھا، غالبا کا لفظ میں نے اس لئے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہی شخص پہلے ایمان لایا ہو، ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان لانے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے بااثر اور مفید وجود تھا ، بہر حال میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور میں نے اُس کا اسلامی نام عبدالشکور رکھا ہے۔میں اُس کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیا ہے میں اب آگے جاؤں گا اس لئے اے عبدالشکور ! تجھ کو میں اس قوم میں اپنا نا ئب مقرر کرتا ہوں۔تیرا فرض ہوگا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں تو حید کو قائم کرے اور شرک کو مٹا دے اور تیرا فرض ہو گا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بنائے۔میں واپس آ کر تجھ سے حساب لوں گا اور دیکھوں گا کہ تجھے میں نے جن فرائض کی سرانجام دہی کیلئے مقرر کیا ہے ان کو تو نے کہاں تک ادا کیا ہے۔اس کے بعد وہی الہامی حالت جاری رہتی ہے اور میں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اُسے توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ تیرا فرض ہوگا کہ ان لوگوں کو سکھائے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے بندہ اور اُس کے رسول ہیں اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے سکھانے کا اُسے حکم دیتا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور سب لوگوں کو اس ایمان کی طرف بلانے کی تلقین کرتا ہوں۔جس وقت میں یہ تقریر کر رہا ہوں ( جو خود الہامی ہے ) یوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ۔اس کے بعد میں اُن کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں۔چنانچہ اُس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہوا وہ یہ ہے وَأَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ مَثِيْلُهُ وَ خَلِيفَتُهُ اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اُس کا