انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 239

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۳۹ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات پر تقریر سنبھال سکو۔تم لوگ تھوڑے تھے اور تمہارے لئے تھوڑے مدرس کافی تھے مگر آئندہ آنے والی نسلوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور ان کے لئے بہت زیادہ مدرس درکار ہیں۔پس اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دو اور یہ نہ دیکھو کہ اس کے عوض تمہیں کیا ملتا ہے۔جو شخص یہ دیکھتا ہے کہ اسے کتنے پیسے ملتے ہیں وہ کبھی خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل نہیں کر سکتا اللہ تعالیٰ کی نصرت اُسی کو ملتی ہے جو اس کا نام لے کر سمندر میں کود پڑتا ہے چاہے موتی اُس کے ہاتھ میں آجائے اور چاہے وہ مچھلیوں کی غذا بن جائے۔پس مومن کا کام عرفان کے سمندر میں غوطہ لگا دینا ہے وہ اس بات سے بے پروا ہوتا ہے کہ اُسے موتی ملتے ہیں یا وہ مچھلیوں کی غذا بنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی سنت تھی کہ جب کبھی سلسلہ کے لئے غم کا کوئی موقع ہوتا آپ دوستوں سے فرماتے کہ دعائیں کرو اور استخارے کرو تا اللہ تعالیٰ دلوں سے گھبراہٹ دور کر دے اور بشارات دیگر دلوں کو مضبوط کر دے۔پس آپ لوگ بھی آئندہ چند دنوں تک متواتر دعائیں کریں خصوصاً آج کی رات بہت دعائیں کی جائیں کہ اگر جماعت کے لئے کوئی اور ابتلاء مقدر ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں ٹال دے اور اگر تمہارا خیال غلط ہو تو دلوں سے دہشت کو دور کر دے اور اپنے فضل سے ایسی سچی بشارتیں عطا کرے کہ جن سے دل مضبوط ہوں اور کمزور لوگ ٹھوکر سے بچ جائیں۔پس خوب دعا ئیں کرو اور اگر کسی کو خواب آئے تو بتائے۔خصوصاً صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد بہت دعائیں کریں ( حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض صحابہ کے نام بھی لئے ) وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پایا اور انہیں موقع ملا کہ وہ حضور علیہ السلام کی پاک صحبت میں رہے خاص طور پر میرے مخاطب ہیں وہ آج رات بھی اور آئندہ بھی بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ایسے واقعات اور ابتلاؤں سے بچائے جو کمزوروں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو سکتے ہیں اور جن سے افسردگی پیدا ہوتی ہے کہ یہ دین کی فتح کے دن ہیں اور ان دنوں میں افسردگی نہیں ہونی چاہئے بلکہ دلوں میں ایسا عزم صمیم ہونا چاہئے کہ جس کے ماتحت دوست بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر سکیں۔پس خوب دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کمزور لوگوں کو ٹھوکر سے بچائے اور ایسی بشارات دے کہ جو دلوں کو مضبوط کر دیں اور