انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 181

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۸۱ مزار حضرت مسیح موعود پر دعا اور اس کی حکمت بھی ان کی ایک رنگ میں وابستگی پیدا کر دیتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ ایک بزرگ کی قبر پر دعا کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا جب میں دعا کر رہا تھا تو صاحب قبرا اپنی قبر سے نکل کر میرے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔مگر اس سے مراد بھی یہ نہیں کہ اُن کی روح اس مٹی کی قبر سے باہر نکلی بلکہ ظاہری تعلق کی وجہ سے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مٹی کی قبر پر کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اُس بزرگ کو اپنی اصلی قبر سے آپ تک آنے کی اجازت دے دی۔وہی قبر جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آماته فا قبرة سے اُسی قبر میں مرنے کے بعد انسان کی روح رکھی جاتی ہے۔ورنہ یہ قبریں دنیا میں ہمیشہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد کھودی جاتی ہیں اور ان کے اندر سے کچھ بھی نہیں نکلتا۔بلکہ ایک قبر کا اوپر کا نشان جب مٹ جاتا ہے تو اُسی جگہ دوسرا شخص دفن کر دیا جاتا ہے۔پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اُسی جگہ تیسرا شخص دفن کر دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ایک ایک قبر میں بعض دفعہ یکے بعد دیگرے سو سو آدمی دفن ہو جاتے ہیں اور وہ سب مٹی ہو جاتے ہیں۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے اس قبر کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر دیا ہے اس وجہ سے قبر پر آنے سے طبیعت میں جو رقت اور خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے وہ دوسرے مقام پر کم ہوتا ہے۔پس ہماری غرض یہاں آ کر دعائیں کرنے سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کو دیکھ کر ہمارے اندر رقت پیدا ہو اور ہم خدا تعالیٰ سے یہ عرض کریں کہ اے خدا ! یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی خاطر اپنی تمام زندگی وقف کر دی، یہ وہ شخص ہے جس پر تو نے الہامات نازل کئے کہ اس کے ہاتھوں سے اسلام کا احیاء ہوگا اور دنیا ایک نئے رنگ میں پلٹا کھائے گی ، اب یہ شخص فوت ہو چکا ہے اور ہمارے سامنے زمین میں دفن ہے، ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ محبت رکھتے اور اس کے غلاموں میں شامل ہیں اس لئے اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس ذمہ داری کو ادا کریں اور اُن وعدوں کو جو تو نے کئے پورا کرنے کے لئے اپنی جد و جہد اور کوشش کو کمال تک پہنچا دیں۔مگر ہم کمزور ہیں ہمارے اندر کئی قسم کی کوتاہیاں پائی جاتی ہیں تو آپ اپنے فضل سے ہمارے کمزور کندھوں کو طاقت دے، ہمارے نا تو ان ہاتھوں کو مضبوط بنا اور ہماری کوششوں میں ایسی برکت پیدا فرما کہ تیرے وعدے پورے ہوں اور تیرا دین دنیا پر