انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 154

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۵۴ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان کے بارہ میں کی گئی تھی اور جس میں بتایا گیا تھا کہ مصلح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مثیل اور نظیر ہو گا۔تب میں نے سمجھا کہ یہ پیشگوئی خدا نے میرے لئے ہی مقدر کی ہوئی تھی۔رؤیا کی حالت میں میں نے اور بھی بعض باتیں بیان کی ہیں مثلاً میں نے ان سے کہا میں وہی ہوں جس کے ظہور کے لئے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔یہ در حقیقت انجیل کی ایک پیشگوئی ہے جس میں حضرت مسیح ناصری فرماتے ہیں جب میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا تو بعض قو میں مجھ پر ایمان لائیں گی اور بعض انکار کر دیں گی اُس وقت ان قوموں کی مثال ایسی ہوگی جیسے دس کنواریاں جن میں سے کچھ ہوشیار تھیں اور کچھ سُست ، دولہا کے انتظار میں بیٹھ گئیں جو سُست تھیں اُن کا انتظار کی حالت میں ہی تیل ختم ہو گیا اور جب وہ دوبارہ تیل لینے بازار گئیں تو پیچھے سے دولہا آ گیا اور وہ اُس کے ساتھ شامل ہونے سے محروم رہ گئیں لیکن جو ہوشیار تھیں اور جنہوں نے تیل اپنے ساتھ رکھا تھا وہ دولہا کو اپنے ساتھ لے کر اُس کے قلعہ میں چلی گئیں۔اس تمثیل میں حضرت مسیح ناصری نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا تو کچھ تو میں جو ہوشیار ہونگی وہ مجھے مان لیں گی لیکن کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے مجھے ماننے سے محروم رہ جائیں گی۔پس اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رؤیا کی حالت میں میں ان سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں۔اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جس کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں انتظار کر رہی تھیں تو کچھ نوجوان عورتیں جو سات یا نو ہیں اور جو کنارہ سمندر پر بیٹھی ہوئی میری طرف دیکھ رہی تھیں ان الفاظ کے سنتے ہی دوڑتے ہوئے میری طرف آئیں اور انہوں نے میرے ارد گر دگھیرا ڈال لیا اور کہا ہاں ہاں تم سچ کہتے ہو ہم اُنیس سو سال سے تمہارا انتظار کر رہی تھیں۔اس کے بعد میں پھر اُن کو ہدایتیں دے کر کسی اور طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہوں کیونکہ خواب میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا سفر ختم نہیں ہوا بلکہ میں اور آگے جاؤں گا۔چنانچہ خواب کی حالت میں ہی میں اُس شخص سے جس کا نام میں نے عبدالشکور رکھا ہے کہتا ہوں جب میں اس سفر سے واپس آؤں گا تو دیکھوں گا کہ تیری قوم توحید پر قائم ہو چکی ہے، اسلام کی تعلیم پر کار بند ہو چکی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر ایمان لا چکی ہے؟