انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 134

انوار العلوم جلد ۷ ۱۳۴ اور اُن کو کہیں بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے اُن کی قدرو منزلت قائم کی اور اُن کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنے کی مردوں کو ہدایت کی۔اس احسان کی یاد میں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن پر کیا ہے اُن کا فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آپ کے اعمال اور اخلاق کی نقل کریں اور اعمال و اخلاق کے یہی نقوش اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔آج کا انسان دراصل مجبور ہوتا ہے اُن اخلاق سے جو نو یا دس سال کی عمر میں اُس کے بنا دئیے جاتے ہیں۔وہ نو یا دس سال کی عمر تک ماں کی گود میں پلتا اور اُسی سے اخلاق و عادات سیکھتا ہے۔پس بہترین مصور دنیا میں عورتیں ہوسکتی ہیں جن کی گود میں اُن کے بچے پلتے ہیں اور جو چھوٹی عمر میں ہی اُن کے قلوب پر جو تصویر اُتارنا چاہیں اُتار سکتی ہیں۔پس تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اپنی اولاد کے دلوں پر کھینچو تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو انہیں کسی نئی تصویر کی ضرورت محسوس نہ ہو بلکہ اُن کے بڑے ہونے کے ساتھ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تصویر بھی بڑی ہو جائے جو اُن کی ماؤں نے اُن کے دلوں پر کھینچی تھی۔اس کے ساتھ ہی میں بڑوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ جو کوتا ہی آپ لوگوں سے اب تک اس سلسلہ میں ہو چکی ہے اُس کو دُور کرو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا ایسا اعلیٰ درجے کا نمونہ پیش کرو کہ دنیا والوں کو اِس جہان میں اس کے سوا اور کوئی چیز نظر ہی نہ آئے۔جیسے ایک شاعر نے کہا ہے کہ جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے اسی طرح ان اخلاق میں ترقی کرتے کرتے ایسی حالت ہو جائے کہ کچھ عرصہ کے بعد ہم جدھر بھی دیکھیں ہمیں سوائے محمدؐ کے اور کوئی نظر نہ آئے۔خواہ وہ چھوٹا محمد ہو یا بڑا محمد ہوا اور یقینی بات ہے کہ جب اس دنیا میں ہمیں محمد ہی محمد نظر آنے لگیں گے تو چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی صفات کی ایک تصویر ہیں اس لئے دنیا میں تو حید کامل پیدا ہو جائے گی اور شرک