انوارالعلوم (جلد 16) — Page 69
سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ کے بر ہمو سماج سے جاملے اور انہوں نے اپنی ساری جائداد اس کے لئے وقف کر دی۔یہ نتیجہ تھا در حقیقت اس آیت کی خلاف ورزی کا حالانکہ اللہ تعالی کا حکم یہ ہے کہ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ اگر روٹی کا سوال ہو تو بیشک خود ٹھو کے رہو اور دوسرے کو کھانا کھلاؤ لیکن جہاں ہدایت کا سوال آ جائے اور تمہیں محسوس ہو کہ اگر تمہارا قدم ذرا بھی ڈگمگایا تو تم خود بھی ہدایت سے دُور ہو جاؤ گے تو تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی صورت میں تمہیں مضبوطی سے ہدایت پر قائم رہنا چاہئے اور دوسرے کی گمراہی کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔شرک کی ممانعت تیرا علم خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اسکے بارہ میں فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۵ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔غرض اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے تو حید کو دنیا میں قائم کیا اور اس طرح اس ظلم کا خاتمہ کر دیا جس کا خدا سے تعلق ہے اور مسلمان ہی وہ قوم ہے جس نے کبھی دوسروں پر ظلم نہیں کیا اور مسلمان ہی وہ قوم ہے جس نے کبھی اپنے نفس پر بھی ظلم نہیں کیا اور اس طرح اس نے امن کے برباد کرنے والے تمام اسباب کا خاتمہ کر دیا۔بے جا غضب کی ممانعت (۳) امن کو برباد کرنے والا تیسرا سبب یہ ہوتا ہے کہ انسان غصہ کو اپنے اوپر غالب آنے دیتا ہے۔قرآن کریم نے اس بدی کی بھی بیخ کنی کی ہے اور اصولی طور پر ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے وَ كَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ۵ کہ ہم نے تمہیں اُمَةً وَسَطًا بنایا ہے یعنی ایسی امت جو ہر کام میں اعتدال کو مد نظر رکھتی ہے پس تمہارا فرض ہے کہ تم نہ تو غصہ میں بہہ جاؤ اور نہ محبت میں بہہ جاؤ بلکہ اگر محبت کرو تو ایک حد تک اور اگر غصہ کرو تو ایک حد تک۔پھر فرماتا ہے وَالْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۵۸ که مؤمن لوگ اپنے غصہ کو دبا کر رکھتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے جب کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ اُس وقت چل رہا ہو تو کھڑا ہو جائے ، اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور اگر پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہو تو پانی پی لے۔میں نے بچپن میں دیکھا ہے کہ جب بعض طالب علموں کی آپس میں لڑائی ہو جاتی تو ایک پانی لیکر دوسرے کے منہ میں ڈالنے لگ جاتا اور اس طرح وہ لڑکا جسے غصہ آیا ہوتا تھا بے اختیار ہنس پڑتا اور غصہ جاتا رہتا۔