انوارالعلوم (جلد 16) — Page 49
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) پیغام دیا کہ اسے اپنے سر پر رکھا کر و۔قیصر جو سر پر تاج رکھنے کا عادی تھا اُس نے جو گاڑھے کی میلی کچیلی ٹوپی دیکھی تو وہ سخت گھبرایا مگر ایک روز جب اُسے درد کا شدید دورہ ہو ا تو اُس نے مجبوراً ٹوپی اپنے سر پر رکھ لی اور خدا تعالیٰ کی قدرت نے یہ نشان دکھایا، ادھر اس نے اپنے سر پر ٹوپی رکھی اور ادھر ا سے آرام آ گیا۔پھر تو اُس کا دستور ہی یہی ہو گیا کہ جب وہ دربار میں بیٹھتا تو حضرت عمر کی میلی پھیلی اور پھٹی پرانی ٹوپی اپنے سر پر رکھ لیتا۔تو اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو برکتیں دیتا ہے اُن کی چیزوں میں بھی برکت پیدا ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ ایک دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سل کا مادہ پیدا ہو گیا تھا۔ایکسرے کرایا تو بھی یہی نتیجہ نکلا ، آخر وہ کہتے ہیں میں قادیان آگیا کہ اگر مرنا ہے تو قادیان چل کر مروں اور میں نے تمام علاج چھوڑ کر آپ سے دعا کرائی۔نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ عرصہ کے بعد مجھے آرام آنا شروع ہو گیا اور آخر با لکل صحت ہو گئی۔میں پھر لاہور گیا اور ایکسرے کرایا تو انہیں ڈاکٹروں نے جنھوں نے پہلے میرا ایکسرے کیا تھا، ایک بار ایکسرے کیا پھر دوسری بارا یکسرے کیا اور جب کہیں بھی انہیں سل کا مادہ نظر نہ آیا تو وہ کہنے لگے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہڈی ہی بدل گئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں کو برکت دیتا ہے اُن کی باتوں میں، اُن کے کپڑوں میں، اُن کی دعاؤں میں اور اُن کی تمام چیزوں میں برکت رکھ دیتا ہے۔غرض جس طرح مسجد ایک برکت والی چیز ہے اسی طرح صحابہ کا گروہ برکت والا تھا اور دنیا نے اس گروہ کی جسمانی اور روحانی برکات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔صحابہ کرام تمام دنیا کے لئے ہدایت کا موجب تھے مسجد کی تیسری غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ هُدًى لِلْعَلَمِينَ ہوتی ہے یہ بات بھی صحابہ میں پائی جاتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں فرماتا ہے۔وَ مِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهُدُونَ بِالْحَقِّ وَ بِهِ يَعْدِلُونَ ٣٠ اس رکوع میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے یہود کی بُرائیاں بیان فرمائی ہیں اور بتایا ہے کہ وہ کیسے نالائق ہیں اس کے بعد فرماتا ہے کہ سارے ہی ایسے نالائق نہیں بلکہ اس رسول کے ذریعہ ہم نے جن لوگوں کو کھڑا کیا تھا وہ ایسے ہیں جو سچائی کو دنیا میں پھیلاتے ہیں اور انصاف سے کام لیتے ہیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کی ہدایت کی شہادت دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔اَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم اسے کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس طرح تم کسی ستارے کو نشان قرار دیکر چل پڑو تو منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہو،