انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 588

انوار العلوم جلد ۱۶ ممبران پنجاب اسمبلی کو ایک مخلصانہ مشورہ میں اس جگہ یہ بھی کہ دینا چاہتا ہوں کہ گو جماعت احمد یہ نہایت قلیل ممبران اسمبلی کو انتباہ جماعت ہے پھر بھی پنجاب میں تھیں کے قریب نشستیں ایسی ہیں کہ اگر جماعت وہاں کسی امیدوار کا مقابلہ کرے تو اس کی کامیابی نہایت مشکوک ہو جائے گی اور کم سے کم اسے ہزاروں روپیہ زائد خرچ کرنا پڑے گا۔مسلمانوں اور پنجاب کے فائدہ کے لئے میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جس ممبر نے بھی اس موقع پر ذاتی دوستی کا لحاظ کیا اور اختلاف پیدا کرنے میں مدد کی ہماری جماعت اگلے انتخاب میں اس کی مخالفت کرے گی اور خواہ یونینسٹ پارٹی اُسے معاف کر دے ہم اُسے معاف نہیں کریں گے کیونکہ مسلمانوں میں محض قومی فائدہ کے لئے خدمت کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کا ہم نے تہیہ کر لیا ہے۔جو لوگ ذاتیات کو قومی فوائد پر ترجیح دیں گے ہم یقیناً اُن کا پوری طرح مقابلہ کریں گے خواہ حکومتِ وقت اُن کی تائید میں ہی کیوں نہ ہو اور خواہ بعد میں وہ پہلو بدل کر پھر اکثریت کیساتھ کیوں نہ مل گئے ہوں۔مجھے یقین ہے کہ آپ موقع کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اِس وقت اتحاد کو ہر دوسرے امر پر مقدم کریں گے۔اس وقت کوئی اصولی مسئلہ زیر بحث نہیں بلکہ صرف ذاتیات کا سوال ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں کو سچائی کے لئے کھول دے اللہ تعالیٰ آپ کو مسلمانوں اور پنجاب کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان الفضل ۱۴ /جنوری ۱۹۴۴ء) مورنسی سر جیفرے ڈی مانٹ: پیدائش ۱۸۷۶ ء۔پیمبر وک کالج کیمرج میں تعلیم مکمل کی۔۱۸۹۹ء میں آئی سی ایس سے منسلک ہوئے۔۱۹۰۷ ء تا ۱۹۲۰ ء ڈپٹی کمشنر لائل پور رہے۔۱۹۲۰ء میں ڈپٹی سیکرٹری ھند۔۱۹۲۲ ء تا ۱۹۲۶ ء وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری ، ۱۹۲۶ ء تا ۱۹۲۸ء پنجاب ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر۔۱۹۲۸ء تا ۱۹۳۳ء پنجاب کے گورنر رہے۔(اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۶۴۲)