انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 34

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ ہیں کہ کوئی شخص غلامی کو اپنے گھر کی آزادی پر ترجیح دینے کے لئے تیار ہو جائے وہ مثال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس قدر غلام تھے اُن تمام کو حضرت خدیجہ سے شادی ہوتے ہی آپ نے آزاد کر دیا تھا۔اس کے بعد تاریخ سے ثابت نہیں کہ آپ نے اپنے پاس کوئی غلام رکھا ہو ہاں غلام کو آزاد کر کے اسے خادم کے طور پر رکھا ہو تو یہ اور بات ہے۔لیکن ایک غلام جن کا نام زید تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہے اور انہوں نے آزاد ہونا پسند نہ کیا۔یہ ایک مالدار خاندان میں سے تھے۔کسی جنگ میں انہیں یونانی لوگ پکڑ کر لے گئے تھے ، پھر فروخت ہوتے ہوتے یہ مکہ پہنچے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خرید لیا۔جب حضرت خدیجہ کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی ہوئی تو انہوں نے اپنا تمام مال اور غلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہبہ کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ہبہ کے بعد میں پہلا کام یہ کرتا ہوں کہ ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے سب کو آزاد کر دیا۔ادھر حضرت زید کے باپ اور چچا، زید کو تلاش کرتے ہوئے اور ڈھونڈتے ہوئے مکہ آنکلے۔وہاں انہیں معلوم ہوا کہ زید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے۔وہ یہ سُن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ ہمارا ایک بچہ آپ کے پاس غلام ہے آپ ہم سے روپیہ لے لیں اور اسے آزاد کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اسے آزاد کر چکا ہوں۔انہیں خیال آیا کہ شاید یہ بات انہوں نے یونہی ہمیں خوش کرنے کے لئے کہہ دی ہے ور نہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے بغیر روپیہ لئے اسے آزاد کر دیا ہو۔چنانچہ وہ پھر منت سماجت کرنے لگے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو آواز دی اور جب وہ آئے تو آ نے فرمایا یہ تمہارے باپ اور چاہیں اور تمہیں لینے کے لئے آئے ہوئے ہیں، میرے ساتھ مسجد میں چلو تا کہ میں اعلان کر دوں کہ تم غلام نہیں بلکہ آزاد ہو چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسجد میں لے گئے اور اعلان کر دیا کہ زید غلام نہیں وہ آزاد ہے اور جہاں جانا چاہیے جا سکتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کر دیا تو ان کے باپ اور چچا دونوں بہت خوش ہوئے اور زید سے کہا کہ اب ہمارے ساتھ چلو ، مگر حضرت زید اُسی وقت مسجد میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا اے لوگو! تم اِس بات کے گواہ رہو کہ گو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں اُن سے آزاد نہیں ہونا چاہتا اور انہی کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔