انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 32

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) تو کل عَلَى الله (ج) وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ اس جگہ تُؤْمِنُونَ کو آخر میں رکھنا صاف بتا رہا ہے کہ یہاں عام ایمان مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کاموں میں کسی نقصان سے نہیں ڈرتے اور نڈر ہو کر کام کرتے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس مسجد نے اس غرض کو کس طرح پورا کیا اور کس طرح تمام بنی نوع انسان میں اُس نے مساوات کو قائم کیا۔مساوات کے قیام کے لئے غلامی کو مٹا دیا گیا! مساوات کے قیام کے لئے اس جماعت نے سب سے پہلے غلامی کو مٹایا اور جس طرح مسجد میں کوئی آقا اور کوئی غلام نہیں رہتا اسی طرح مسلمان ہو کر کوئی آقا اور کوئی غلام نہیں رہتا۔غلامی کے متعلق اسلام نے ایک مفصل تعلیم دی ہے میں صرف یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے سارا زور اس امر پر صرف کر دیا کہ دنیا سے غلامی کو مٹا دیا جائے۔چنانچہ اس مسئلہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اصل بیان کیا ہے اور میں اپنی جماعت کے لیکچراروں کو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ وہ اسے بیان کیا کریں۔وہ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُوَ إِمَّا فِدَاءُ کہ جب کوئی غلام پکڑا جائے تو اس کے متعلق شریعت میں صرف دوا ہی حکم ہیں یا تو احسان کر کے چھوڑ دو یا مجرم کا جرمانہ وصول کر کے چھوڑ دو، قید کا حکم کہیں نہیں۔پس دو ہی حکم ہیں یا تو یہ کہ غلام پر احسان کرو اور اُسے آزاد کرو اور یا یہ حکم ہے کہ کچھ ٹیکس اور جرمانہ وصول کرو اور اُسے چھوڑ دو۔پھر اس مجرمانہ کے متعلق بھی یہ شرط ہے کہ اگر غلام مکا تبت چاہے تو مکا تبت بھی کر سکتا ہے اور یہ مکاتبت کی شرط اس لئے رکھی گئی ہے کہ فرض کرو ایک شخص کے پاس روپیہ تو نہیں مگر وہ آزاد ہونا چاہتا ہے تو وہ کرے تو کیا کرے؟ اگر نقد روپیہ دیکر غلام آزاد ہوسکتا تو جس کے پاس روپیہ نہ ہوتا وہ اعتراض کر سکتا تھا کہ میری رہائی کی کوئی صورت اسلام نے نہیں رکھی۔مگر اسلام چونکہ کامل مذہب ہے اس لئے اُس نے اِس روک کو بھی دُور کر دیا اور یہ اصول مقرر کر دیا۔کہ اگر غلام مکاتبت کا مطالبہ کرے تو اُسے مکاتبت دے دینی چاہئے۔مکاتبت کا مطلب یہ ہے کہ غلام کہہ دے میں آزاد ہونا چاہتا ہوں تم میرا مجرمانہ مقرر کر دو۔میں محنت اور مزدوری کر کے اپنی کمائی میں سے ماہوار قسط تمہیں دیتا چلا جاؤں گا۔جب کوئی غلام یہ مطالبہ کرے تو اسلامی شریعت کے ماتحت قاضی کے پاس مقدمہ جائیگا اور وہ اُس کی لیاقت اور قابلیت کو دیکھ کر اور