انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 28

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ خوابوں کی تعبیر سے انسان معلوم کر سکتا ہے کہ ظاہری چیزوں کی مشابہت رکن روحانی چیزوں سے ہوتی ہے۔اس مقصد کے لئے جب ہم علم تعبیر الرؤیا کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسجد انبیاء کی جماعت کو کہتے ہیں۔پس مساجد کے مشابہہ عالم روحانی میں اگر کوئی چیز میں ہیں تو انبیاء کی جماعتیں ہیں۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا انبیاء کی جماعتوں میں وہ باتیں پائی جاتی ہیں جو مساجد کی اغراض ہیں؟ اگر پائی جاتی ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ واقعہ میں روحانی دنیا میں بھی مساجد ہیں اور وہ ظاہری مساجد سے بہت زیادہ شاندار ہیں۔آج تک دنیا میں خدا تعالیٰ کے بہت سے انبیاء ہوئے ہیں، حضرت آدم علیہ السلام ہوئے ہیں، حضرت نوح علیہ السلام ہوئے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوئے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں۔اسی طرح حضرت داؤد ، حضرت سلیمان، حضرت بیٹی اور حضرت عیسی علیہم السلام ہوئے ہیں اور ہرنبی نے کوئی نہ کوئی جماعت قائم کی ہے۔پس اگر ہم غور کریں تو ہر نبی کی جماعت میں ہمیں یہ مشابہتیں نظر آ جائیں گی اور ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کے پورا کرنے کے لئے مختلف روحانی مساجد بنائی گئی تھیں مگر میں تفصیلاً ان کے حالات اس جگہ بیان نہیں کرسکتا کیونکہ : - (۱) ایک تو مضمون لمبا ہو جاتا ہے۔(۲) دوسرے سب مساجد کے تفصیلی حالات محفوظ نہیں۔اس لئے میں صرف آخری مسجد کو لے لیتا ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تیار ہوئی اور جس کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَسْجِدِى اخِرُ الْمَسَاجِدِ = صحابہ کے متعلق ایک اُصولی نکتہ اب میں ایک ایک کرکے مساجد کی اغراض کی نسبت ثابت کرتا ہوں کہ وہ تمام کی تمام اس روحانی مسجد سے پوری ہوئی ہیں۔مگر ایک بات میں کہہ دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ بعض واقعات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے متعلق تاریخی طور پر بحث کی جائے تو وہ بہت لمبی ہو جاتی ہے اس لئے اصولی طور پر ایک نکتہ یاد رکھنا چاہئے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ آپ کے اخلاق و عادات اگر معلوم کرنا چاہو تو قرآن پڑھ لو جو کچھ اس میں لکھا ہے وہی کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا تھا۔حضرت عائشہ نے یہ بات جس موقع پر بیان فرمائی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں بعض لوگ حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حالات