انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 393

خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ تو آئندہ وہ اس کی ایسی نگرانی کرے گا کہ اُسے بھی راز کو محفوظ رکھنے کی عادت پیدا ہو جائے گی یا جب کسی کا پہرہ مقرر کر یگا تو دیکھ لے گا کہ آیا وہ سُست تو نہیں یا پہرہ کی اہمیت سے تو غافل نہیں کہ اسے پہرہ پر مقرر کیا جائے اور وہ اپنے مقام کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے۔مثلاً ہوسکتا ہے کوئی آدمی ہو تو مضبوط مگر وہ سست ہو یا اسے اپنے مقام سے چلے جانے کی عادت ہو اور جب اُس سے پوچھا جائے تو وہ کہدے کہ میں پانی پینے چلا گیا تھا یا پیشاب کرنے چلا گیا تھا حالانکہ پہرہ کے معافی یہ ہیں کہ اگر کسی کا پیشاب نکلتا ہے تو نکل جائے ، پیاس لگتی ہے تو لگتی رہے مگر وہ اپنے مقام سے ہلے نہیں جب تک اُس کا کوئی قائمقام نہ آ جائے بلکہ پیشاب، پاخانہ تو الگ رہا اگر نماز کا وقت آ جائے تب بھی پہرہ دار کو ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ہم جو خدام الاحمدیہ کو ٹر ینگ دے رہے ہیں یہ کسی دنیوی بادشاہت کی حفاظت کے لئے تو نہیں ہم تو خدام الاحمدیہ کو اس لئے ٹرینینگ دے رہے ہیں کہ اگر اسلام اور احمدیت کو کبھی خطرہ ہو تو اس کی حفاظت کے لئے میدان میں نکل آئیں پس خدام الاحمدیہ کا کام دنیا کا نہیں بلکہ دین کا ہے اور یہ بھی جہاد کا ایک چھوٹا سا شعبہ ہے آج چونکہ تلوار سے جہاد کا موقع نہیں اس لئے خدام الاحمدیہ کا کام اس جہاد کے قائم مقام ہے پس جس طرح جہاد کے موقع پر ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے اسی طرح خدام الاحمدیہ کی ٹریننگ میں اگر کسی شخص کی کوئی نماز فوت ہو جاتی ہے اور وہ اُس وقت ڈیوٹی پر ہے تو اگر وہ اُس نماز کو دوسری نماز کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتا ہے تو وہ ہرگز گنہگار نہیں کہلا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے موقع پر ایسا ہی کیا کرتے تھے بلکہ ایک دفعہ تو آپ نے چار نمازیں چھوڑ دی تھیں اور پھر ان سب کو ملا کر پڑھ لیا تھا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اتنے پابند تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو کہہ سکے کہ اُسے نماز کی پابندی کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر احساس ہے مگر باوجود اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز نہیں، دونمازیں نہیں ، تین نمازیں نہیں چار نمازیں چھوڑ دیں اور بعد میں ان کو جمع کر کے پڑھ لیا۔پس اگر ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہوئے کسی شخص کی کوئی نماز رہ جاتی ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا بلکہ صرف اتنے معنی ہیں کہ وہ اُس وقت نماز نہیں پڑھے گا بعد میں پڑھ لے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ سے فارغ ہوئے تو آپ نے چاروں نمازیں جمع کر لیں بلکہ بعض حالات میں آپ نے دو ایسی نمازیں بھی جمع کی ہیں جو عام حالات میں جمع نہیں ہو سکتیں مثلاً عصر کی نماز مغرب کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی مگر