انوارالعلوم (جلد 16) — Page 388
جلسه سالانه ۱۹۴۱ ء کے کارکنوں سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ ہیں اگلے سال اسی نسبت سے اور بھی کم ہوں گے۔میں دوستوں کے اس تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جو انہوں نے جلسہ کے اموال کی حفاظت میں کیا ہے اور انہیں عمدگی سے خرچ کرنے کی کوشش کی۔میں اجرائے پرچی کے محکمہ کے متعلق اظہارِ خوشنودی کرتا ہوا دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس محکمہ میں کام کرنے والوں یا جو اور کام کرنے والے آئیں اُن کو اس سے بھی بہتر کام کرنے کی توفیق دے۔سٹور کے متعلق میں ایک بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف عزیز منصور احمد کے منہ سے نکلی ہوئی ایک بات کی وجہ سے توجہ ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جلسہ کے بعد ہر ایک نظامت کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کس کس نظامت نے کتنے برتن لئے اور ان میں سے کتنے واپس کئے۔اس طرح آئندہ اس مفید امر کے لئے راستہ کھل جائے گا کہ نظامتیں جلد سے جلد برتن واپس کریں گے اور ان کی حفاظت کا بہتر انتظام کیا جائے گا۔اس دفعہ مردوں اور عورتوں کے جلسہ گاہ کو دیکھ کر اول تو میرا خیال ہے کہ حاضرین کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت کمی نہیں تھی اور اگر تھی تو بہت کم ( اس موقع پر عرض کیا گیا کہ ریل کے ٹکٹوں کے لحاظ سے جو شمار کئے گئے اس دفعہ کمی نہیں بلکہ کچھ زیادتی ہی تھی حضور نے فرمایا ) یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ کئی وجوہ کے باوجود خدا تعالیٰ نے آنے والوں کی تعداد میں کمی نہ ہونے دی۔اس دفعہ قحط، جنگ، رعائتی ٹکٹ نہ ہونے اور بیماریوں کی وجہ سے خیال تھا کہ شاید مہمان کم آئیں گے لیکن خدا تعالیٰ کا یہ نمایاں احسان ہے کہ کمی نہیں ہوئی۔دعا ہے کہ خدا جلسہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد کو آئندہ اور بھی بڑھائے ، جماعت کی قربانیوں اور خدمات میں بھی زیادتی کرے اور زیادہ اپنے قرب میں جگہ دے تا کہ ہم وہ مقام حاصل کر لیں جس کے متعلق اس نے فرمایا ہے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ الله تعالی ہم ورد سے راضی ہو جائے اور ہم اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جائیں۔(الفضل ۶ جنوری ۱۹۴۲ء)