انوارالعلوم (جلد 16) — Page 373
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح ہم پانی کو لوگوں میں پھیلا دیتے ہیں تا کہ وہ ہمارے نشانوں کی قدر کریں، اسی طرح ہم نے قرآن کو اُن کے سامنے پیش کر دیا ہے ، مگر اکثر لوگ کُفرانِ نعمت کرتے ہیں۔وہ پانی کی نعمت تو قبول کر لیتے ہیں مگر کلام الہی کی نعمت جو اس سے بہت زیادہ بہتر ہے اُسے رڈ کر دیتے ہیں، گویا وہ اشرفیاں تو نہیں لیتے مگر کوڑیوں پر جان دیتے ہیں، اور یہ بالکل بچوں والی حالت ہے۔میں ایک دفعہ بمبئی گیا وہاں ایک تازہ کیس عدالت میں چل رہا تھا۔جو اس طرح ہوا کہ کسی جوہری کے ساتھ ہیرے جو کئی ہزار روپیہ کی مالیت کے تھے کہیں گر گئے ، اس نے پولیس میں رپورٹ کر دی ، پولیس نے تحقیق کرتے ہوئے ایک آدمی کو پکڑ لیا جس سے کچھ ہیرے بھی برآمد ہو گئے۔جب اُس سے پوچھا گیا کہ اس نے یہ ہیرے کہاں سے لئے تھے ؟ تو اُس نے بتایا کہ میں بازار میں سے گزر رہا تھا کہ چندلر کے ان ہیروں سے گولیاں کھیل رہے تھے ، میں نے انہیں دو چار روپے دے کر ہیرے لے لئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ اس جو ہری نے کسی موقع پر اپنی جیب سے رومال نکالا تو یہ ہیرے جو ایک پیڑ یہ میں تھے اس کے ساتھ ہی نکل کر زمین پر گر گئے اور بچوں نے یہ سمجھا کہ وہ کھیلنے کی گولیاں ہیں ، حالانکہ وہ پچاس ہزار روپے کا مال تھا۔یہی حال لوگوں کا ہے کہ اُس پانی کی قدر کریں گے جوسٹر جاتا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ناکارہ ہو جاتا ہے مگر جو پانی ان کے اور اُن کی آئندہ نسلوں کے کام آنے والا ہے اور جو نہ صرف اِس زندگی میں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آتا اور انسان کی کا یا پلٹ دیتا ہے اُس کو ر ڈ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں لیتے ، تو فرماتا ہے اکثر لوگ کُفر ہی کرتے ہیں حالانکہ اگر ہم چاہتے تو ساری دنیا میں ہی نذیر بھیجے۔یعنی اگر ہم لوگوں پر جلدی حجت تمام کرنا چاہتے تو بجائے اس کے کہ ایک رسول بھیجتے اور اُس کی تعلیم آہستہ آہستہ پھیلتی ، ہر بستی میں ایک ایک نذیر بھیج دیتے ، مگر ہم نے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ اس لئے کہ اگر سب لوگ ایک دم گھر کرتے تو دنیا کی تمام بستیوں پر یکدم عذاب آ جاتا اور سب لوگ ہلاک ہو جاتے مگر اب ایسا نہیں ہوتا بلکہ اب پہلے عرب پر اتمام حجت ہوتی ہے اور اس پر عذاب آتا ہے۔پھر کچھ اور عرصہ گزرتا ہے تو ایران پر اتمام حجت کے بعد عذاب آجاتا ہے۔اگر ہر بستی اور ہر گاؤں میں اللہ تعالیٰ کے نبی مبعوث ہوتے ، تو ہر بستی اور ہر گاؤں پر وہ عذاب نازل ہوتا جواب براہ راست ایک حصہ زمین کے مخالفوں پر نازل ہوتا ہے۔پس تو اُن کا فروں کی باتیں مت مان، بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ سے سب دنیا کے ساتھ وہ جہاد کر جو سب سے بڑا جہاد ہے یعنی تبلیغ کا