انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 301

سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ کی طاقت پیدا کی۔اسی طرح ہم نے اسے ذہانت دی اور اس ذہانت کے لئے اس کے دماغ کے کچھ حصے مخصوص کئے۔کچھ فہم کے لئے مخصوص کئے ، کچھ جرات اور دلیری کے لئے مخصوص کئے ، پھر ہاتھوں اور پیروں کو طاقت دی تا کہ وہ اپنا اپنا کام کر سکیں۔معدہ کو طاقت دی کہ وہ غذا ہضم کر کے تمام اعضاء کو قوت پہنچائے۔ہڈیوں کو طاقت دی، قوالی کو طاقت دی غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کے قوای کا اندازہ مقرر کیا اور ہر عضو کو اُس کے مناسب حال طاقت دی تا کہ وہ خاص اندازہ کے مطابق ترقی کر سکے۔عام قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز بنائی جائے وہ اسی معین حلقہ میں کام کرتی ہے جس معتین حلقہ میں کام کرنے کے لئے اُسے بنایا جاتا ہے مگر فرمایا ہم نے انسان کو ایسا نہیں بنایا جیسے پتھر وغیرہ ہیں کہ وہ اپنی شکل نہ بدل سکے بلکہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی قابلیت اس میں رکھی ہے۔ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ جب ہم نے اس میں طاقتیں اور قو تیں رکھیں تو ہم نے محسوس کیا کہ اب ان طاقتوں اور قوتوں سے کام بھی لیا جانا چاہئے اور ایسا رستہ ہونا چاہئے جس پر چل کر انسان ان طاقتوں سے کام لے کر چل سکے۔آخر جب خدا نے ہر انسان میں سوچنے کی طاقت رکھی ہے تو لازماً ایسی باتیں ہونی چاہئیں جن پر انسان غور کرے اور اس طرح اپنی اس طاقت سے فائدہ اٹھائے یا جب خدا نے ہر انسان کے اندر یہ طاقت پیدا کی ہے کہ وہ خدا کے قرب میں بڑھ سکتا ہے تو کوئی ایسا رستہ بھی ہونا چاہئے جس پر چل کر اُسے قرب حاصل ہو سکے۔پھر جب خدا نے انسان کو اندازہ لگانے کی طاقت دے دی ہے تو اس کے نتیجہ میں لازماً وہ بعض کو اچھا قرار دیگا اور بعض کو بُرا۔چنانچہ دیکھ لو کچھ کھانے اچھے ہوتے ہیں کچھ بُرے ہوتے ہیں۔پھر کام بھی کچھ اچھے ہوتے ہیں اور کچھ بڑے ہوتے ہیں۔پھر آپس کے مقابلوں میں سے بھی کچھ مقابلے مشکل ہوتے ہیں اور کچھ آسان ہوتے ہیں اور انسان اپنی ذہانت اور ان طاقتوں سے کام لے کر جو خدا نے ہرانسان کے اندر ودیعت کی ہوئی ہیں فیصلہ کرتا ہے کہ کونسی بات اچھی ہے اور کونسی بُری۔اسلام کی مطابق فطرت تعلیم ہیں چونکہ ہرانسن کے اندراللہ تعالینے کی قسم کی طاقتیں پیدا کی تھیں اس لئے کوئی راستہ بھی ہونا چاہئے تھا چنانچہ یہ راستہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کر دیا مگر یہ راستہ مشکل نہیں بلکہ فرماتا ہے ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ خدا نے اس راستہ کو آسان بنایا ہے یعنی اسے (۱) الہام اور (۲) مطابق فطرت تعلیم دی ہے۔ایسا راستہ نہیں بنایا کہ جس پر انسان چل ہی نہ سکے جیسے انجیل نے کہہ دیا کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال