انوارالعلوم (جلد 16) — Page 123
احمد بیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ طرح کرو اور اُس طرح کرو وہ حرامخوری کرتا ہے۔پس ہر شخص کو اپنے ہاتھوں سے کام کرنا چاہیئے اسی لئے خدام الاحمد یہ روزانہ ہاتھوں سے مشقت کا کام کرتے ہیں اور ایک دن خاص طور پر سب لوگوں کو اس میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں اس قسم کے اجتماعی عمل کی غرض یہی ہے کہ ہر انسان ان نعمتوں کا شکر ادا کرے جو خدا تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہیں۔وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ میں بڑا ہوں اور لوگ بے شک کام کریں مگر میں نہیں کر سکتا وہ شرم وحیا سے عاری انسان ہے۔پس جو تمہارے عہدہ دار ہیں انہیں زیادہ کام کرنا چاہئے اور مرکزی عہدہ داروں کو کاموں میں خود حصہ لینا چاہئے۔اب تو اس طرح ہوتا ہے کہ عہدہ دار معتمد کو ہدایت بھیج دیتا ہے اور معتمد آگے ہدایت بھیج دیتا ہے لیکن آئندہ کے لئے عہدہ داروں کو خود محلوں میں جا جا کر خدام کا کام دیکھنا چاہئے۔اسی طرح سیکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ بھی خود بار بار محلوں میں پھر کر کام کی نگرانی کریں صرف ہدایت لکھ کر بھیج دینی کافی نہیں ہے۔میرے نزدیک تمام مرکزی عہدہ داران کو ہفتہ میں دو تین بار ضرور عملی کام میں شریک ہونا چاہیئے اور خدام میں بیٹھ کر ان سے باتیں کرنی چاہئیں۔اسی سلسلہ میں میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض مشورہ کے قابل امور ایسے ہوتے ہیں جن میں صرف عہدہ دار شامل ہو سکتے ہیں۔مگر جب کسی اجتماع کے موقع پر سب لوگ اکٹھے ہوں تو پھر سب سے مشورہ لینا چاہئے اور اس غرض کے لئے ایسے اجتماع میں مشورہ کے قابل امور کو پیش کرنا چاہئے اور ہر ایک کو رائے دینے کی آزادی حاصل ہونی چاہئے۔میرے نزدیک ایسے جلسوں سے پہلے جماعتوں کو لکھ کر اُن سے دریافت کر لینا چاہئے کہ انہیں کام میں کیا کیا دقتیں پیش آ رہی ہیں؟ اور پھر ان مشکلات پر بحث کر کے آئندہ کے لئے سکیم بنانی چاہئے۔مثلاً ایک سوال یہ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو جب کوئی ہدایت دی جاتی ہے تو وہ اسے مانتے نہیں ان کا کیا علاج ہونا چاہئے؟ اور اگر غور کیا جائے تو کئی تدابیر سامنے آجائیں گی جو دلچسپ اور مفید ہونے کے علاوہ عقلی ترقی کا موجب ہوں گی۔اسی طرح اگر کوئی دقت ہو تو اسے سالانہ اجتماع کے موقع پر تمام خدام کے سامنے رکھا جائے۔اس کا فائدہ یہ ہو گا جب خدام کی اکثریت کے فیصلہ کو نافذ کیا جائے گا اس پر زیادہ کامیابی کے ساتھ عمل کیا جاسکے گا۔ہر شخص کہے گا کہ یہ فیصلہ ہم نے خود کیا ہے اس لئے اس کی تعمیل ضروری ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے اجلاسوں میں اہم امور کے متعلق لوگوں سے مشورے لینے چاہئیں اور ان کے مطابق اپنی سکیمیں بنانی چاہئیں۔باقی نظام کی روح ضرور قائم