انوارالعلوم (جلد 15) — Page 505
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی رہی ہے اسی طرح ان کی مدد ہوگی۔پس اس آیت میں خلافت نبوت سے مشابہت مراد ہے نہ کہ خلافت ملوکیت سے۔خلافت کا وعدہ ایمان اور (۳) تیسری بات اس آیت سے یہ نکلتی ہے کہ یہ وعدہ اُمت سے اُس وقت تک کیلئے ہے جب عمل صالح کے ساتھ مشروط ہے تک کہ امت مؤمن اور عمل صالح کرنے والی ۵۲ ہو۔جب وہ مومن اور عمل صالح کرنے والی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کو واپس لے لے گا۔گویا نبوت اور خلافت میں یہ عظیم الشان فرق بتایا کہ نبوت تو اُس وقت آتی ہے جب دنیا خرابی اور فساد سے بھر جاتی ہے۔جیسے فرمایا۔ظَهَرَ الْفَسَادُ في البر و البَحْرِ ٥٢ کہ جب بر اور بحر میں فساد واقعہ ہو جاتا ہے، لوگ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں ، الہی احکام سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں ، ضلالت اور گمراہی میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور تاریکی زمین کے چپہ چپہ کا احاطہ کر لیتی ہے، تو اُس وقت لوگوں کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کسی نبی کو بھیجتا ہے جو پھر آسمان سے نو رایمان کو واپس لاتا اور اُن کو بچے دین پر قائم کرتا ہے لیکن خلافت اس وقت آتی ہے جب قوم میں اکثریت مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی ہوتی ہے۔گویا نبوت تو ایمان اور عمل صالح کے مٹ جانے پر آتی ہے اور خلافت اُس وقت آتی ہے جب قریباً تمام کے تمام لوگ ایمان اور عملِ صالح پر قائم ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلافت اُسی وقت شروع ہوتی ہے جب نبوت ختم ہوتی ہے کیونکہ نبوت کے ذریعہ ایمان اور عمل صالح قائم ہو چکا ہوتا ہے اور چونکہ اکثریت ابھی ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں خلافت کی نعمت دے دیتا ہے۔اور درمیانی زمانہ جب کہ نہ تو دنیا نیکوکاروں سے خالی ہو اور نہ بدی سے پُر ہو دونوں سے محروم رہتا ہے کیونکہ نہ تو بیماری شدید ہوتی ہے کہ نبی آئے اور نہ تندرستی کامل ہوتی ہے کہ اُن سے کام لینے والا خلیفہ آئے۔خلافت کا فقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے پس اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے فقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے اور خلافت کا منا خلیفہ کے گنہگار