انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 478

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده وہ آل ابراہیم میں شامل نہیں۔اگر ہے تو پھر تمہارے حسد سے کیا بنتا ہے۔خدا نے پہلے بھی آل ابرا ہیم کو حکومت اور سلطنت دی اور اب بھی وہ آل ابراہیم کو حکومت اور سلطنت دے گا۔فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَ مِنْهُمْ مِّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا - ہم اس سے پہلے بھی آل ابرا ہیم کو حکومت دے چکے ہیں۔جن لوگوں نے اُن کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا وہ عزت پاگئے اور جنہوں نے انکار کیا اُن کو سزا مل گئی۔فرماتا ہے یہ حکومت جو آل ابراہیم کو دی جائے گی یہ لوگوں کیلئے بڑی رحمت اور برکت کا موجب ہوگی۔جب تک وہ اس رحمت کے نیچے رہیں گے اور اس حکومت سے بھاگنے کی کوشش نہیں کریں گے وہ بڑے آرام اور سکھ میں رہیں گے مگر جب انہوں نے انکار کر دیا تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں مبتلا ء کرے گا جس سے رہائی کی کوئی صورت ہی نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ دُکھوں میں مبتلاء رہیں گے۔كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلَتْهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَاب اِنَّ اللهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا - انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ ایک عذاب کا عادی ہو جاتا ہے تو اُس کی تکلیف اسے پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی۔ایک بادشاہ خواہ کتنا ہی ظالم ہو جب اُس کی حکومت پر کچھ عرصہ گزر جاتا ہے تو اُس کا ظلم لوگوں کو پہلے جیسا محسوس نہیں ہوتا اور وہ خود بھی نرمی کا پہلو اختیار کرنے لگ جاتا ہے لیکن اگر وہ بدل جائے اور اُس کی جگہ کوئی اور ظالم بادشاہ آ جائے تو اُس کا ظلم بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے اگر تم نے اس انعام کو رد کر دیا تو پھر ظالم بادشاہ تم پر حکومتیں کریں گے اور وہ حکومتیں جلد جلد بدلیں گی تاکہ تمہیں اپنے کئے کی سزا ملے۔والَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِن تحْتِهَا الأَنْهرُ خُلدِينَ فِيهَا اَبَدًا ، لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجُ مُطَهَّرَةُ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلّا ظليلا - مگر جو لوگ ایمان لانے والے ہونگے اور اعمالِ صالحہ بجا لائیں گے ، اُن کو ہم اعلیٰ درجہ کی حکومتیں بخشیں گے اور ان جنات میں اُن کے ساتھ اُن کی بیویاں بھی ہونگی اور اُن سب کو آرام اور سکھ کا بہت لمبا زمانہ بخشا جائے گا۔ان آیات میں دراصل اسلامی حکومت کے قیام کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہود جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ سخت نقصان اٹھا ئیں گے اور ہمیشہ عذاب میں مبتلاء رہیں گے لیکن مؤمن جو اس فضل کو تسلیم کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں جنتی زندگی دے گا اور اُن کی بیویاں بھی اُن کے ساتھ ہونگی۔