انوارالعلوم (جلد 15) — Page 441
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده کیا نظام سے تعلق رکھنے والے احکام صرف منکرین خلافت کی اس دلیل پر کہ اسلام نے رسول کریم ﷺ کی ذات سے مخصوص تھے ؟ کوئی معنی نظام پیش نہیں کیا جو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس طرح رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھے گا بلکہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ کام محض ضرورتِ زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے علی بن عبد الرزاق نے بھی محسوس کیا ہے اور چونکہ وہ آدمی ذہین ہے اس لئے اس نے اس مشکل کو بھانپا ہے اور یہ سمجھ کر کہ لوگ اس پر یہ اعتراض کریں گے کہ جب قرآن کریم میں ایسے احکام موجود ہیں جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے تو تم کس طرح کہتے ہو کہ رسول کریم ﷺ نے ان کا موں کو وقتی ضرورت کے ماتحت کیا اور اسلام نے کوئی مخصوص نظام حکومت پیش نہیں کیا اسے اس رنگ میں حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی حکومت حکومت رسالت و محبت تھی نہ کہ حکومت ملوکیت۔وہ کہتا ہے بیشک رسول کریم ﷺ نے کئی قسم کے احکام دیئے مگر وہ احکام بحیثیت رسول ہونے کے تھے بحیثیت نظام کے سردار ہونے کے نہیں تھے۔اور اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ چونکہ وہ احکام نظام کا سردار ہونے کے لحاظ سے نہیں دیئے گئے اس لئے وہ دوسروں کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے اور چونکہ وہ تمام احکام بحیثیت رسول تھے اس لئے آپ کی وفات کے ساتھ ہی وہ احکام بھی ختم ہو گئے۔پھر وہ ان تمام اختیارات کو رسول کریم علیہ کے ساتھ مخصوص ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ رسول کے ساتھ لوگوں کو غیر معمولی محبت ہوتی ہے اور اس محبت کی وجہ سے ہر شخص اُن کی بات کو تسلیم کر لیتا ہے یہی کیفیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھی۔صحابہ کو آپ کے ساتھ عشق تھا اور وہ آپ کے ہر حکم پر اپنی جانیں فدا کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔پس آپ نے جو حکم بھی دیا وہ انہوں نے مان لیا اور وہ ماننے پر مجبور تھے کیونکہ وہ اگر عاشق تھے تو آپ معشوق ، اور عاشق اپنے معشوق کی باتوں کو مانا ہی کرتا ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ احکام ہمیشہ کیلئے واجب العمل بن گئے بلکہ وہ صرف آپ کے ساتھ مخصوص تھے اور جب آپ وفات پا گئے تو اُن احکام کا دائرہ عمل بھی ختم ہو گیا۔