انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 437

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده صلى الله رہنے پر بہت ہی خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات کو بُراسمجھا کہ وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں۔اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ سخت گرمی کا موسم ہے ایسے موسم میں جہاد کیلئے نکلنا تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اشد حرا تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اب گرمی کا بہانہ بنا کر تو تم پیچھے رہ گئے ہو مگر یا درکھو جہنم کی آگ کی تپش بہت زیادہ ہوگی۔کاش وہ اس امر کو جانتے اور سمجھتے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے صریح لفظوں میں رسول کریم ﷺ کو جہاد کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ سپاہی بنو اور دشمنوں سے لڑواور یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو لوگ تیرے حکم کے ماتحت لڑنے کے لئے نہیں نکلیں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم قرار پائیں گے۔(۸) پھر فرماتا ہے۔اِمَاجَرُوا الّذينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ويسعون في الأَرْضِ فَسَادًا أن يُقَتَلُوا اَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وارْجُلُهُمْ مِّن خِلافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ، ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَ لهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمُ ١٢ کہ وہ لوگ جو اللہ اور رسول سے لڑتے اور زمین میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی جزاء یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا انہیں صلیب دیا جائے یا ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو مقابل پر کاٹ دیا جائے یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ذلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَاو لهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظیم اور یہ امران کے لئے دنیا میں رسوائی کا موجب ہوگا اور آخرت میں عذاب عظیم کا موجب۔(۹) اسی طرح سورہ توبہ کی پہلی عرب سے کفار کے نکالے جانے کا حکم آیات میں عرب سے کفار کے نکالے جانے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔براءَ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِةٍ إِلَى الَّذِينَ عاهدتُم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ ارْبَعَةٌ أَشْهُرٍو اعْلَمُوا انَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزى اللهِ، وَانَّ اللهَ مُخْزى الْكَفِرِينَ وَاذَانَ مِّنَ اللَّهِ ورَسُولِة إلى النَّاسِ يَا اللَّهَ يُرِيءُ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ : وَرَسُوله ، فإن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرُ لَّكُمْ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ b