انوارالعلوم (جلد 15) — Page 428
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اور شریعت کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ لعنت ہے وہ خود ایک قانون بنا کر لوگوں کو اس کے ماتحت چلنے پر مجبور کرتے ہیں اگر محض کسی قانون کا ہونا لعنت ہوتا تو وہ خود بھی کوئی قانون نافذ نہ کرتے۔مگر ان کا ایک طرف مذہب کو لعنت کہنا اور دوسری طرف خود اپنے لئے مختلف قسم کے قوانین تجویز کرنا بتاتا ہے کہ وہ اس فقرہ کے یہی معنی سمجھتے تھے کہ صرف لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے جو قانون چاہیں بنالیں مذہب کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دُنیوی امور کے متعلق لوگوں کے سامنے کوئی احکام پیش کرے۔اس طرح انہوں نے موسوی شریعت کی ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا جوا مور سلطنت میں اس نے لوگوں پر عائد کی ہوئی تھیں۔یہودی مذہب کا نظام حکومت میں دخل اس کے بالمقابل بعض دوسرے مذاہب ہیں۔جنہوں نے مذہب کے دائرہ کو وسیع کیا ہے اور انسانی اعمال اور باہمی تعلقات اور نظام حکومت وغیرہ کے متعلق بھی قواعد بنائے ہیں اور جو لوگ ایسے مذاہب کو مانتے ہیں لازماً انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حکومت کے معاملات میں بھی مذہب کو دخل اندازی کا حق حاصل ہے اور نیز یہ کہ ان احکام کی پابندی افراد اور جماعتوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح عقائد اور انفرادی احکام مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ میں واجب ہے۔اس کی مثال میں یہودی مذہب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی شخص موسوی شریعت کو پڑھے تو اسے جا بجا یہ لکھا ہوا نظر آئے گا کہ اگر کوئی قتل کرے تو اسے یہ سزا دی جائے ، چوری کرے تو یہ سزا دی جائے، جنگ ہو تو ان قواعد کو ملحوظ رکھا جائے ، قربانی کرنی ہو تو ان اصول کے ماتحت کی جائے ، اسی طرح لین دین اور تجارت وغیرہ معاملات کے متعلق وہ ہدایات دیتا ہے۔غرض وہ معاملات جو حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یہودی مذہب ان میں بھی دخل دیتا ہے۔چنانچہ جب بھی کوئی شخص موسوی شریعت پر غور کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ مذہب کو جس طرح افراد کے معاملات میں دخل دینے کا حق حاصل ہے اسی طرح اسے قومی اور ملکی معاملات میں بھی دخل دینے کا حق حاصل ہے۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اسلام رکن مذاہب سے مشابہت رکھتا ہے اسلام کوئی قسم کے مذاہب سے مشابہت رکھتا ہے۔آیا اول الذکر قسم سے یا دوسری قسم کے مذاہب سے اور آیا اسلام نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے یا نہیں ؟ اگر محمد اللہ نے قومی معاملات میں دخل دیا ہے چاہے اپنی