انوارالعلوم (جلد 15) — Page 414
انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ہی جھنڈا بنا جاتے تو کیا اچھا ہوتا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ایک مجلس میں یہ سُنا ہے کہ ہمارا ایک جھنڈا ہونا چاہئے۔جھنڈا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”لواے ماپنہ ہر سعید خواہد بود “ “ یعنی میرے جھنڈے کی پناہ ہر سعید کو حاصل ہوگی اور اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کریں تاسعید روحیں اس کے نیچے آ کر پناہ لیں۔یہ ظاہری نشان بھی بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں۔جنگ جمل میں حضرت عائشہ ایک اونٹ پر سوار تھیں دشمن نے فیصلہ کیا کہ اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو آپ نیچے گر جائیں اور آپ کے ساتھی لڑائی بند کر دیں لیکن جب آپ کے ساتھ والے صحابہ نے دیکھا کہ اس طرح آپ گر جائیں گی تو گو آپ دین کا ستون نہ تھیں مگر بہر حال رسول کریم علے کی محبت کی مظہر تھیں اس لئے صحابہ نے اپنی جانوں سے ان کے اونٹ کی حفاظت کی اور تین گھنٹہ کے اندراندرستر جلیل القدر صحابی کٹ کر گر گئے۔کے قربانی کی ایسی مثالیں دلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔پس جھنڈا نہایت ضروری ہے اور بجائے اس کے کہ بعد میں آکر کوئی بادشاہ اسے بنائے یہ زیادہ مناسب ہے کہ یہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اور موعودہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے تو بعد میں کوئی جھنڈ ا کسی کیلئے سند نہیں ہوسکتا۔چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا بناتے ہیں اور جاپانی کہیں گے اپنا اور اس طرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی۔آج یہاں عرب ، سماٹری ، انگریز سب قوموں کے نمائندے موجود ہیں ایک انگریز نو مسلمہ آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ایڈریس بھی پیش کیا ہے۔جاوا، سماٹرا کے نمائندے بھی ہیں ، افریقہ کے بھی ہیں انگریز گویا یورپ اور ایشیا کے نمائندے ہیں۔افریقہ کا نمائندہ بھی ہے امریکہ والوں کی طرف سے بھی تار آ گیا ہے اور اس لئے جو جھنڈا آج نصب ہوگا اس میں سب تو میں شامل سمجھی جائیں گی اور وہ جماعت کی شوکت کا نشان ہوگا اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا بھی بن جاتا تا بعد میں اس کے متعلق کوئی اختلافات پیدا نہ ہوں۔پھر یہ رسول کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔حضرت مسیح موعود کے ایک شعر کو بھی پورا کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح دمشق کے منارہ شرقی پر اُترے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے وہ مینارہ بنوایا تا رسول کریم ﷺ کی بات ظاہری رنگ میں بھی پوری ہو اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ جھنڈا بنانے کی توفیق دی کہ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا