انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 412

تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اح انوار العلوم جلد ۱۵ اس فنڈ سے آمد شروع ہو جائے تو احمدی نوجوانوں کا مقابلہ کا امتحان ہو اور پھر جولڑ کا اول آئے اسے انگلستان یا امریکہ میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تین سال کے لئے امداد دی جائے۔اس طرح غرباء کی تعلیم کا انتظام ہو جائے گا اور جوں جوں آمد بڑھتی جائے گی ان وظائف کو ہم بڑھاتے رہیں گے کئی غرباء اس لئے محنت نہیں کرتے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم آگے تو پڑھ نہیں سکتے خواہ مخواہ کیوں مشقت اُٹھا ئیں لیکن اس طرح جب ان کے لئے ترقی کا امکان ہوگا تو وہ محنت سے تعلیم حاصل کریں گے مڈل میں اول رہنے والوں کیلئے جو وظیفہ مقرر ہے وہ صرف تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء کے لئے ہی مخصوص ہوگا کیونکہ سب جگہ مڈل میں پڑھنے والے احمدی طلباء میں مقابلہ کے امتحان کا انتظام ہم نہیں کر سکتے۔یونیورسٹی کے امتحان میں امتیاز حاصل کرنے والا خواہ کسی یونیورسٹی کا ہو وظیفہ حاصل کر سکے گا ہم صرف زیادہ نمبر دیکھیں گے کسی یو نیورسٹی کا فرسٹ سیکنڈ اور تھرڈ رہنے والا طالب علم بھی اسے حاصل کر سکے گا اور اگر کسی بھی یو نیورسٹی کا کوئی احمدی طالب علم یہ امتیاز حاصل نہ کر سکے تو جس کے بھی سب سے زیادہ نمبر ہوں اسے یہ وظیفہ دے دیا جائے گا۔انگلستان یا امریکہ میں حصول تعلیم کے لئے جو وظیفہ مقرر ہے اس کے لئے ہم سارے ملک میں اعلان کر کے جو بھی مقابلہ میں شامل ہونا چاہیں ان کا امتحان لیں گے اور جو بھی فرسٹ رہے گا اسے یہ وظیفہ دیا جائے گا۔یزیمم کے ایک معنی ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جانے کے بھی ہیں اور اس طرح اس میں اقتصادی ترقی بھی شامل ہے اس کی فی الحال کوئی سکیم میرے ذہن میں نہیں مگر میرا ارادہ ہے کہ انڈسٹریل تعلیم کا کوئی معقول انتظام بھی کیا جائے تا پیشہ وروں کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔اسی طرح ایگریکلچرل تعلیم کا بھی ہو تا زمینداروں کی حالت بھی درست ہو سکے۔خلفاء کا ایک کام میں سمجھتا ہوں اس عہدہ کا استحکام بھی ہے۔میری خلافت پر شروع سے ہی پیغامیوں کا حملہ چلا آتا ہے مگر ہم نے اس کے مقابلہ کے لئے کماحقہ توجہ نہیں کی۔شروع میں اس کے متعلق کچھ لٹر پچر پیدا کیا تھا مگر اب وہ ختم ہو چکا ہے۔پس اس فنڈ سے اس قوم کی ہدایت کے لئے بھی جدوجہد کی جانی چاہئے اور اس کے لئے بھی کوئی سکیم میں تجویز کروں گا۔ہماری جماعت میں بعض لوگ اچھا لکھتے ہیں میں نے الفضل میں ان کے مضامین پڑھے ہیں ان سے فائدہ اُٹھانے کی کوئی صورت کی جائے گی۔پس یہ خلفاء کے چار کام ہیں اور انہی پر یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔پہلے اسے کسی نفع مند کام میں لگا کر ہم اس سے آمد کی صورت پیدا کریں گے اور پھر اس آمد سے یہ کام شروع کریں گے