انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 391

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور کے قریب ایک آدمی میرے پاس گھبرایا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ ناصر احمد کی حالت سخت نازک ہے آپ جلدی گھر چلیں۔میں نے اسے اشارہ کیا کہ واپس چلے جاؤ چنانچہ وہ واپس چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد پھر آدمی آیا اور کہنے لگا کہ جلدی چلیں ناصر احمد کی حالت سخت خراب ہوگئی ہے۔میں پھر بھی نہ اُٹھا اور اسے اشارہ کر کے واپس کر دیا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر آیا اس وقت حضرت خلیفہ اول ہوش میں آچکے تھے۔اس نے کہا کہ ناصر احمد کی حالت خطر ناک ہے جلد آئیں مگر میں پھر بھی نہ اُٹھا اور وہیں بیٹھا رہا۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت خلیفہ اول نے میری طرف منہ پھیرا اور فرمایا میاں تم گئے نہیں اور پھر کہا تم جانتے ہو وہ کس کی بیماری کی اطلاع دے کر گیا ہے۔وہ تمہارا بیٹا ہی نہیں وہ حضرت مسیح موعود کا پوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے تم نے اس نکتہ نگاہ سے پیغام پر غور نہیں کیا۔چنانچہ میں آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اُٹھا اور گھر چلا آیا تو جہاں محبت ہوتی ہے وہاں بعض دفعہ ایک بڑی نسبت کو انسان مد نظر رکھ لیتا ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو اس نگاہ سے نہیں دیکھا کہ وہ میرے روحانی فرزند ہیں بلکہ اس نگاہ سے دیکھا کہ وہ میرے خدا کی روحانی نسل ہیں اور انہی کے ذریعہ دنیا میں دین کا قیام ہے اگر ان کی اچھی تربیت نہیں ہوگی تو تمام دنیا تباہ ہو جائے گی۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم ﷺ نے جس محبت سے اپنے صحابہ کو پالا وہ ایسی بے نظیر ہے کہ واقعات پڑھ کر جذبات قابو میں نہیں رہتے۔حضرت ابو ہریرہ کا واقعہ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے۔وہ کہتے ہیں چونکہ میں نے کچھ عرصہ بعد اسلام قبول کیا تھا اس لئے اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے قسم کھا لی کہ اب میں ہر وقت محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہوں گا اور آپ کی باتیں سنتا رہوں گا ، مگر وہ تھے غریب۔ماں غالباً عیسائی تھی ، بھائی مسلمان ہو گیا تھا مگر اس میں اتنا جوش نہیں تھا جتنا ان میں بلکہ وہ رسول کریم عیے سے شکایتیں کیا کرتا تھا کہ ابو ہریرہ نکما رہتا ہے کچھ کام نہیں کرتا اور آپ فرماتے کہ تمہیں کیا معلوم خدا تمہیں اس کی وجہ سے رزق دے رہا ہو۔بہر حال وہ کہتے ہیں میں نے عہد کر لیا کہ میں اب مسجد سے نہیں ہلوں گا بلکہ یہیں بیٹھا رہوں گا اور جب بھی رسول کریم یہ کوئی بات فرمائیں گے اسے اپنے ذہن میں محفوظ کر لونگا مگر چونکہ ان کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے بعض دفعہ انہیں سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا اور بھوک کی شدت سے بے ہوش ہو جاتے۔وہ کہتے ہیں ایک دفعہ مجھے اتنی بھوک لگی کہ بے تاب ہو گیا اور مسجد کے دروازہ کے سامنے اس خیال سے جا کر الله