انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 242

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) اُس وقت میری آنکھوں کے سامنے سے جو نظارے گزرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو راز مجھ پر کھولا گیا گو وہ تفصیل کے لحاظ سے بہت بڑی چیز ہے اور کئی گھنٹوں میں بھی بیان نہیں ہو سکتی مگر چونکہ فکر میں انسان جلدی سفر طے کر لیتا ہے اس لئے اُس وقت تو اِس پر چند منٹ شاید دس یا پندرہ ہی خرچ ہوئے تھے پس جو انکشاف اُس وقت ہوا وہ بطور پیج کے تھا اور جو کچھ میں بیان کروں گا وہ اپنے الفاظ میں اُس کی ترجمانی ہوگی اور اُس کی شاخیں اور اُس کے پتے اور اُس کے پھل بھی اپنی اپنی جگہ پر پیش کئے جائیں گے۔اس سفر میں میں نے کیا کچھ دیکھا اب میں قدم بقدم آپ کو بھی اپنے اُس وقت کے خیالات کے ساتھ ساتھ لے جانے کی کوشش کرتا ہوں اور آپ کو بھی اپنی اس سیر میں شامل کرتا ہوں۔جب میں اُس وسیع نظارہ کو دیکھ رہا تھا اور سلف کے کارنامے میرے سامنے تھے، میرے دل نے کہا میں کیا دیکھتا ہوں اور رکن گزشتہ دیکھی ہوئی چیزوں کی یاد میرے دل میں تازہ ہو رہی ہے کہ نہ صرف وہ نظارے بلکہ ابتدائی حصہ سفر کے نظارے بھی میری آنکھوں کے سامنے آگئے ، اُس وقت مجھ پر ایک ربودگی کی حالت طاری تھی ، مجھے کراچی کے نظارے بھی یاد آ رہے تھے ، مجھے حیدرآباد کے نظارے بھی یاد آ رہے تھے ، مجھے آگرہ کے نظارے بھی یاد آ رہے تھے اور دہلی کے نظارے بھی میری آنکھوں کے سامنے تھے یہ تمام نظارے ایک ایک کر کے میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگ گئے اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ گویا میں کہر میں کھڑا ہوں اور ہر چیز دھندلی ہو کر میری آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔غرض میرے دل نے کہا کہ میں کیا دیکھتا ہوں اور کن گزشتہ نظاروں کی یاد میرے دل میں تازہ ہو رہی ہے جب یہ سوال میرے دل میں پیدا ہوا تو میرے دل نے جواب دیا کہ : - ا۔میں نے قلعے دیکھے ہیں جن کے دو اثر میرے دل پر پڑے ہیں۔ایک یہ کہ ان قلعوں کے ذریعہ کیسے کیسے حفاظت کے سامان مسلمان بادشاہوں کی طرف سے پیدا کئے گئے تھے دوسرے یہ کہ کس طرح یہ حفاظت کے سامان خود مٹ گئے اور ان کو دوبارہ بنانے والا کوئی نہیں کیونکہ ان حکومتوں کا نام لیوا اب کوئی نہیں۔۲۔پھر میں نے کہا دوسری چیز جو میں نے دیکھی ہے مُردہ بادشاہوں کے مقابر ہیں ، اُن بادشاہوں کے جو فوت ہو چکے ہیں مگر اُن کے مقبرے اُن کی یاد دلا رہے ہیں اور اُن کی شوکت کو ہماری آنکھوں کے سامنے لا رہے ہیں۔