انوارالعلوم (جلد 15) — Page 186
انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم اس کے بعد وہ پیغام ہے جو اس ہستی کی طرف سے آتا ہے کیونکہ جب ایک امن قائم رکھنے کی خواہشمند ہستی کا پتہ مل گیا تو انسان کے دل میں یہ معلوم کرنے کی بھی خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ آیا اس نے امن قائم کرنے کا کوئی سامان بھی کیا ہے یا نہیں۔کیونکہ اگر اس نے امن قائم کرنے کا کوئی سامان نہیں کیا تو یہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم خود امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو اِس بات کا امکان ہو سکتا ہے کہ بجائے امن کے فساد پیدا کر دیں۔پس محض امن قائم کرنے کی خواہش انسان کو صحیح راستہ پر قائم نہیں رکھ سکتی جب تک ایک بالا ہستی کی ایسی ہدایات بھی معلوم نہ ہوں جو امن قائم کرنے میں مُمد اور معاون ہوں کیونکہ اگر انسان کو اپنے بالا افسر کی خواہشات کا صحیح علم نہ ہو تو انسان باوجود اس آرزو کے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے اسے پوری طرح خوش نہیں رکھ سکتا۔پس اگر ہمیں اپنے بالا افسر کی خواہش تو معلوم ہو لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کا طریق معلوم نہ ہو تب بھی ہمارا امن قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ ممکن ہے ہم کوئی اور طریق اختیار کریں اور اس کا منشاء کوئی اور طریق اختیار کرنا ہو۔پس ہمارے امن کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بالا ہستی ہمیں کوئی ایسا ذریعہ بھی بتائے جو امن قائم کرنے والا ہو سو اس غرض کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا اس نے کوئی ایسا ذریعہ بتایا ہے یا نہیں، تو سورہ بقرہ میں ہمیں اس کا جواب نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وراث جَعَلْنَا البَيْتَ مَتَابَةً لِلنَّاسِ وَآهنا يعنی یہ جو آسمان پر السلام خدا کی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اس کیلئے ضروری تھا کہ ہم ایک مرکز قائم کرتے جو دنیا کو امن دینے والا ہوتا سو ہم نے بیت اللہ کو مدرسہ بنایا ہے یہاں چاروں طرف سے لوگ جمع ہو نگے اور امن کا سبق سیکھیں گے۔پس ہمارے خدا نے صرف خواہش ہی نہیں کی ، صرف یہ نہیں کہا کہ تم امن قائم کرو ور نہ میں تم کو سزا دوں گا بلکہ اس دنیا میں اُس نے امن کا ایک مرکز بھی قائم کر دیا اور وہ خانہ کعبہ ہے۔فرماتا ہے۔یہاں لوگ آئیں گے اور اس مدرسہ سے امن کا سبق سیکھیں گے۔پھر یہ کہ اس مدرسہ کی تعلیم کیا ہوگی ؟ اس کے لئے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر اعلان فرما دیا کہ جاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورُو كِتَبٌ مُّبِين يَهْدِي بد الله مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السّلم نے یعنی اے لوگو! تم تاریکی میں پڑے ہوئے تھے تم کو یہ پتہ نہیں تھا کہ تم اپنے خدا کی مرضی کو کس طرح پورا کر سکتے ہو اس لئے دنیا میں ہم نے تمہارے لئے ایک مدرسہ بنا دیا ہے مگر خالی مدرسہ کام نہیں دیتا جب تک کتا ہیں نہ ہوں۔پس