انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 182

انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عائم میں قرآن کریم کی چند ابتدائی آیات لکھ کر بھجوا دی تھیں جس پر میں نے انہیں مجرمانہ کیا ہے اور ان کا وظیفہ بند کر دیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس گورنر پر بڑی ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا لبید نے تو ہم کو سبق دیا ہے اور بتایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد شعر و شاعری سب ختم ہوگئی اور اب جو کچھ ہے قرآن ہی ہے مگر تم نے بجائے انہیں کوئی انعام دینے کے الٹا ان کا وظیفہ بند کر دیا ہم حکم دیتے ہیں کہ ان کا وظیفہ دُگنا کر دیا جائے۔کے حقیقت یہی ہے کہ جو کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس کے آنے کے بعد دنیا کی تمام تر توجہ کا مرکز تعلیمی لحاظ سے وہ کلام ہو گیا جو آپ لائے اور نمونہ کے لحاظ سے آپ کی ذات ہوگئی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ دنیا کے لئے اُسوہ تھے اور آپ کے وجود ہی کو دنیا اپنے آگے رکھ کر چل سکتی تھی۔اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ذریعہ نہ تھا۔یہ مضمون جو اس وقت میرے سامنے ہے اتنے پہلوؤں پر مشتمل ہے کہ کسی ایک تقریر یا مضمون میں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ ایک سمندر ہے اور اتنا وسیع مضمون ہے کہ کئی سالوں تک اس کے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کی جاسکتی ہیں پس یہ تو ناممکن ہے کہ کوئی ایسا مضمون بیان کیا جائے جس میں پالاستیعاب تمام باتیں آجائیں ہاں اصولی طور پر چند باتیں بیان کی جاسکتی ہیں اس لئے میں بھی اصولی رنگ میں چند باتیں اس عنوان کے متعلق بیان کر دیتا ہوں۔امن ایک ایسی چیز ہے جس کے لئے دنیا ہمیشہ کوشش کرتی چلی آئی ہے۔یا تو دنیا بیرونی امن کے لئے جد وجہد کرتی ہے یا جب بیرونی امن کے لئے جد و جہد نہیں کر رہی ہوتی یا اس میں کامیاب ہو چکی ہوتی ہے تو اندرونی امن کیلئے جد و جہد کرتی ہے چنانچہ بڑے بڑے دولتمند اور عالم و فاضل جب آپس میں ملتے ہیں تو ان کی گفتگو کا موضوع اکثر یہی ہوتا ہے کہ اور تو ہمیں سب کچھ میٹر ہے مگر دل کا امن نصیب نہیں۔پس امن صرف بیرونی ہی نہیں ہوتا بلکہ دل کا بھی ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب تک دل کا امن نصیب نہ ہو اُس وقت تک ظاہری امن کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔مثلاً اس عورت کی مثال لے لو جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اگر اسے ہر قسم کی دُنیوی نعمتیں میٹر ہوتیں، عالیشان محل میں وہ رہتی ، ہزاروں خادم اُس کے پاس موجود ہوتے ، ہر قسم کے کھانے اس کے اردگرد ہوتے ، عمدہ لباس اُس کے زیب تن ہوتا، دولت کی فراوانی ہوتی ، آرائش کا سامان اُس کے پاس بکثرت ہوتا لیکن فرض کرو اس کا بچہ گمشدہ ہوتا تو وہ کھویا ہوا بچہ اس کے امن کو بھی اپنے ساتھ ہی لے جاتا اور دولت کے انبار، آرائش کے سامان ، کھانے پینے کی