انوارالعلوم (جلد 15) — Page 144
انوار العلوم جلد ۱۵ کشمیرا ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ ء کے متعلق چند خیالات اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ کشمیرا ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات اصلاحات کشمیر سے جو میراتعلق رہا ہے اس کے بعد یاد کرانے کی مجھے ضرورت نہیں۔اس جد و جہد میں جو خدمت کرنے کی مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اس کے بیان کرنے کی بھی میں ضرورت محسوس نہیں کرتا کیونکہ میرے نزدیک وہ بنیاد جو صرف ماضی پر رکھی جاتی ہے اس قدر مضبوط نہیں ہوتی جس قدر وہ جو حال میں اپنی صداقت کا ثبوت رکھتی ہے اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے فلاں وقت کوئی کام کیا تھا، اس لئے میری بات سنو بلکہ اہل کشمیر سے صرف یہ کہتا ہوں کہ میں اب جو کچھ کہہ رہا ہوں اس پر غور کریں اور اگر اس میں سے کوئی بات آپ کو مفید نظر آئے تو اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔جب میں نے کام شروع کیا تھا اس وقت کشمیر ایجی ٹیشن گو بظاہر فرقہ وارانہ تھا مگر جو مطالبات پیش کئے جاتے تھے وہ فرقہ وارانہ نہ تھے۔زمینوں کی واگذاری کا فائدہ صرف مسلمانوں کو نہ پہنچتا تھا، نہ پریس اور پلیٹ فارم کی آزادی کا تعلق صرف مسلمانوں سے تھا نہ حکومت کے مشوروں میں شراکت میں مسلمانوں کو کوئی خاص فائدہ تھا۔ملازمتوں کا سوال ایک ایسا سوال تھا جس میں مسلمانوں کے لئے کچھ زائد حقوق کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن ۹۰،۸۰ فی صدی آبادی کے لئے اس کے گم گشتہ حقوق میں سے صرف مشورے سے حق کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ نہیں کہلا سکتا۔اس تحریک کا نتیجہ کم نکلا یا زیادہ مگر بہر حال کچھ نہ کچھ نکلا ضرور اور کشمیر کے لوگ جو سب ریاستوں کے باشندوں میں سے کمزور سمجھے جاتے تھے اس ادنیٰ مقام سے ترقی کر کے ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے کہ اب وہ دوسری ریاستوں کے باشندوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتے۔میں نے جو کچھ اسلام سے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا ہر ایک سمجھوتہ سچائی پر مبنی ہونا چاہئے۔