انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 76

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی لفظی وحی کا نزول پانچویں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی وہ سب کی سب معین الفاظ میں نازل ہوئی اور ان الفاظ کو محفوظ رکھنے کا نہ دیا گیا بلکہ اس کے محفوظ رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ بھی فرمایا اور ذمہ بھی اُٹھایا۔اس کے نتیجہ میں بحث اور تحقیق کے اصول میں بہت بڑا فرق پڑ گیا۔پہلے یہ سوال ہوا کرتا تھا کہ یہ موسی" کا فقرہ ہے یا خدا کا مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے جو تعلیم دی اس کا ہر لفظ خدا تعالیٰ نے خود اُتارا بلکہ اس کی زیر اور اس کی زبر بھی خدا تعالیٰ نے خود اُتاری۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ کوئی شخص مجھ سے سوال کرتا ہے کہ قرآن کریم میں مختلف مسائل کا تکرار ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ میں اسے یہ جواب دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں کوئی تکرار نہیں۔لفظ تو الگ رہے، قرآن مجید میں تو زیر اور زبر کی بھی تکرار نہیں۔جو زیر ایک جگہ استعمال ہوئی ہے اس کی غرض دوسری جگہ آنے والی زیر سے مختلف ہے اور جو ز بر ایک جگہ استعمال ہوئی ہے دوسری جگہ آنے والی زبر سے اس کے معنی مختلف ہیں۔یہ قرآن مجید کی وہ خوبی ہے جو کسی اور الہامی کتاب کو ہرگز حاصل نہیں۔صفات الہیہ کی مفصل تشریح چھٹے اسلامی تعلیم میں صفات الہیہ کی بار یک در بار یک تشریح کی گئی ہے جس کے مقابل میں یہودی تعلیم بھی مات پڑ گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہودی کتب میں صفات الہیہ کا تفصیلی ذکر ہے مگران میں صفات الہیہ کا باہمی تعلق بہت کم بیان کیا گیا ہے۔میں نے ایک دفعہ تجسس کیا تو مجھے قرآن کریم میں کوئی ایسی صفت الہی معلوم نہ ہوئی جو یہودی کتب میں بیان نہ ہوئی ہو لیکن ایک بات جوصفات الہیہ کے باب میں یہودی کتب میں بھی نہیں پائی جاتی مگر قرآن میں پائی جاتی ہے یہ ہے کہ قرآن نے اس بات پر بحث کی ہے کہ مثلاً رحمانیت کا میدان کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ رحیمیت کے دور کا کس جگہ سے آغاز ہوتا ہے اور ان تمام صفات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ مگر توریت نے اس پر بہت کم روشنی ڈالی ہے۔گویا صفات الہیہ کے مختلف اداروں کا جو باہمی تعلق ہے قرآن کریم میں اس کی تشریح بیان کی گئی ہے لیکن تو رات نے ان اداروں کا ذکر تو کر دیا ہے مگر ان کے باہمی تعلق کا ذکر نہیں کیا جس کی وجہ سے سالک ان سے پورا فائدہ نہیں اُٹھا سکتا اور یہ اُس ( قرآن ) کی فضیلت کا ایک بین ثبوت ہے۔