انوارالعلوم (جلد 14) — Page 572
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر یہاں قریباً دو دہا کے جمع ہو گئے ہیں۔اگر اب بھی کوئی سمجھنے کیلئے تیار نہیں تو میں اپنے مخالفین سے کہتا ہوں اگر تم میں ہمت ہے تو تم اپنے تمام علماء کو ساتھ ملا کر کوئی ایک ہی ایسی پیشگوئی شائع کر دو اور اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہر گز نہیں کر سکو گے تو کیوں خدا کے اس عظیم الشان نشان پر ایمان نہیں لاتے جو اس فتنہ کے ظہور کے ذریعہ پورا ہوا۔کون کہہ سکتا تھا کہ یہ لوگ پہلے میری بیعت کریں گے اور پھر اس بیعت کو توڑ دیں گے، کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی زمانہ میں مجھ پر وہی الزام لگائیں گے جو خوارج نے حضرت علیؓ پر لگائے ، کون کہہ سکتا تھا کہ خوارج میں اور ان لوگوں میں اتنی زبر دست مشابہتیں پائی جائیں گی یقینا سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا ہے۔پس اس فتنہ کا مقابلہ بیشک ظاہری تدبیروں سے بھی کرو مگر تمہارا اصل کام یہ ہے کہ تم دعاؤں سے کام لو اور تبلیغ پر زور دو اور قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں مت لو۔یہ فتنہ خدا تعالیٰ کا ایک زبر دست نشان ہے جو ظاہر ہوا اور جس نے میری صداقت کو آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر کر دیا۔خدا تعالیٰ کے نشانات مختلف اقسام کے ہوا کرتے ہیں۔اس کا کوئی نشان جلالی ہوتا ہے اور کوئی قہری۔میں جو اس وقت تمہارے سامنے کھڑا ہوں خدا تعالیٰ کا ایک جلالی نشان ہوں اور مصری پارٹی اس کا ایک قہری نشان ہے۔پس خدا تعالیٰ کے ان نشانات سے فائدہ اُٹھاؤ اور اپنی اصلاح پر زور دو اور نیکی میں ترقی کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جاؤ تا کہ مخالف جب کبھی تم پر حملہ کرے وہ تمہیں خدا تعالٰی کی گود میں پائے اور جو شخص خدا تعالی کی گود میں چلا جائے اس پر کوئی حملہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوا اور تمہیں ابدالآباد تک اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور تمہارے ہر مخالف کو نا کام کرے اور تمہیں حجت اور برہان کی رو سے تمام قوموں پر غلبہ عطا فرمائے اور تمہیں نیکی اور تقومی اور راستی میں دوسروں کیلئے نمونہ بنائے اور خلافت سے مخلصانہ وابستگی کی تمہیں ہر زمانہ میں توفیق بخشے تا کہ تمہارا قدم ترقیات کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اور دنیا کی کوئی قوم اور دنیا کا کوئی فرد تمہاری ترقی میں روک پیدا نہ کر سکے۔امِيْنَ يَارَبَّ الْعَلَمِینَ۔الاحزاب : ۵۷ تا ۶۴ الفضل ۱۴، ۱۶، ۱۸ ،۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ اگست ۱۹۶۴ء) بخارى كتاب الاطعمة باب من ناول او قدم الى صاحبه على المائده شيئا بخارى كتاب الصلواة باب الصلواة في الجبة الشامية میں نماز جمعہ کی بجائے