انوارالعلوم (جلد 14) — Page 490
انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء قوموں کی بھی یہی حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ ابتلا ولاتا ہے تو کئی ایسے ہوتے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقوں نے جب مؤمنوں کو ڈرایا کہ تمہارے خلاف تمام لوگ جمع ہو گئے ہیں۔اس زمانہ کے احراری، پیغامی، منافق سب اکٹھے ہو گئے اس پر بجائے اس کے کہ مؤمن ڈرتے ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور وہ کہنے لگے کیا سب لوگ ہمارے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔یہی تو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا تھا، اب اس کی بات پوری ہو گئی ہے گویا جب منافقین نے مؤمنوں کو مرعوب کرنا چاہا تو انہیں وہ آیات یاد آ گئیں جن میں خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ سب لوگ اکٹھے ہو کر تم پر حملہ آور ہونگے ، اور کہنے لگے خدا تعالیٰ کی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔غرض جس چیز کو منافقین نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کا ذریعہ سمجھا وہی ان کے ایمان کی تقویت کا موجب ہوگئی کیونکہ وہ بُزدل نہ تھے۔بزدل ہی تکلیف اور مصیبت کے وقت ڈرا کرتا ہے۔بہادر اور زیادہ ہمت اور حوصلہ کا اظہار کرتا ہے۔ایک دوست اب تو وہ احمدی ہیں جب غیر احمدی تھے تو انہوں نے ایک دفعہ مجھ سے کہا ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی اور وہ یہ کہ آپ بیمار ہوتے ہیں ، آپ کا گلا خراب ہوتا ہے ، صحت خراب ہوتی ہے مگر پھر بھی جلسہ میں جاتے اور اتنی لمبی تقریر کرتے ہیں کہ دوسرے تندرست آدمی بھی نہیں کر سکتے۔یا تو یہ بات غلط ہے کہ آپ بیمار ہوتے ہیں یا پھر ایسی بات ہے جو میری سمجھ میں نہیں آتی۔میں نے کہا بیماری کے بعض حصے بالکل ظاہر ہیں جیسے کھانسی وہ خود کس طرح بنائی جا سکتی ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ جب مؤمن ایک کام کرنے کا ارادہ کر کے اپنی پوری طاقت سے کام لے تو خدا کی نصرت اس کیلئے نازل ہوتی ہے اور اس کو اتنی طاقت عطا کرتی ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ میں کیا ہوں اور مجھ میں کتنی طاقت ہے بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس وقت خدا تعالی کس قدر قربانی کا مطالبہ کرتا ہے اور جب وہ اس کیلئے پورا عزم کر لیتا ہے تو اس کے مطابق خدا تعالیٰ اس کی حالت بنا دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہی ہم دیکھتے ہیں۔آپ اپنے گھر میں ہیں، چار دیواری کے اندر ہیں، شہر میں ہیں اُس وقت مدینہ کے انصار آ کر باری باری آپ کے مکان پر پہرہ دیتے ہیں۔ایک دفعہ آپ نے بہت شور کی آواز سنی تو باہر تشریف لائے اور پوچھا کیا ہے؟ انصار نے عرض کیا ہم پہرہ دینے کیلئے آئے ہیں اور ہتھیار بند ہو کر آئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔سے اس سے قبل جو پہرہ کیلئے آتے وہ ہتھیار بند ہو کر نہ آتے پھر وہ بھی ہتھیار لانے لگے۔