انوارالعلوم (جلد 14) — Page 411
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ الگ کیا ہوا تھا اور آخر تک الگ رکھا ، ان کو طلاق نہ دی تھی مگر انہیں ساتھ بھی نہیں رکھتے تھے۔میں چونکہ اندرونی حالات سے واقف نہیں، میں کسی پر بھی الزام نہیں دیتا ڈاکٹر صاحب مرحوم کو میں ایک نیک اور پاکباز انسان سمجھتا ہوں اور اپنی ساس میں بھی کوئی ایسا عیب مجھے نہیں معلوم جس کی وجہ سے اُن کو یہ سزا دی جاتی۔مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آپس میں کوئی ایسا سمجھوتا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میری ساس نے اپنے حقوق چھوڑ دیئے تھے، میں نے اپنے اطمینان قلب کو مد نظر رکھتے ہوئے کبھی ان باتوں میں پڑنے کی کوشش نہیں کی اور سلسلہ کی طرف سے بھی ایسا نظام نہ تھا بلکہ اب تک نہیں کہ ایسے واقعات کو سلسلہ اپنے ہاتھ میں لے کر فیصلہ کرے۔بہر حال صورتِ حالات یہ تھی اور اگر دنیا داری کو مد نظر رکھا جائے تو مجھے اپنی ساس کے ان رشتہ داروں سے کوئی خاص رشتہ داری کا تعلق نہیں ہونا چاہئے تھا ، یہ تعلق نہ جیسی تعلق ہے اور نہ نبی ، ہاں چونکہ میری بیوی کی سوتیلی والدہ پختہ احمدی ہیں اور احمدیت کا خاص جوش رکھتی ہیں اس لئے مجھے ان سے اپنی حقیقی ساس کی نسبت زیادہ تعلق رہا ہے اور میں ان سے حقیقی ساس کی نسبت بے تکلف ہوں ، آگے اپنے سالوں سالیوں میں میں نے کبھی سگے اور سوتیلے کا فرق نہیں کیا سوائے اس کے کہ عزیزم کیپٹن تقی الدین جو میرے دو حقیقی سالوں میں سے ایک ہیں مجھے خاص طور پر پیارے ہیں کیونکہ میں نے ان کو بچپن سے ان کے والد سے لے کر اپنے گھر میں رکھا تھا۔مجھے کبھی تقی الدین اور اپنے بچوں میں فرق محسوس نہیں ہوا۔میرے لئے آج تک ناصر احمد اور تقی الدین ایک سے ہیں یہ ہیں ہمارے خاندانی حالات۔ان کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ دُنیاوی لحاظ سے مجھے مجرم کا کوئی لحاظ ہوسکتا تھا۔آخر تعلقات کو دوہی نقطہ نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔یا دنیاوی لحاظ سے یا دینی لحاظ سے۔اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ رشتہ لڑائی کا ہوتا ہے محبت کا نہیں اور اگر دینی لحاظ کو لیا جائے تو کیا یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص دین کی خاطر دنیوی جھگڑوں کو بھلا کر اپنے سوتیلے رشتہ داروں کو سگوں کی طرح سمجھے گا ، وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے موقع پر ان کا ساتھ دے گا۔جو شخص خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی پروا نہیں کرتا وہ تو دنیا دار ہے۔اور دنیا دار کب مذکورہ بالا حالات میں محبت کا سلوک رکھنا پسند کرے گا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میری سوتیلی ساس کا تعلق احمدیت کی وجہ سے ہے۔وہ پختہ احمدی ہیں اور جوشیلی احمدی ہیں اس لئے کبھی میرے دل پر اس بدمزگی کا اثر جو ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کی بڑی بیوی میں تھی، ان کے بارے میں نہیں پڑا۔میں نے ان کو ہمیشہ عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھا