انوارالعلوم (جلد 14) — Page 351
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) طرح ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت جابر بن عبد اللہ ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے پانچ ایسی خصوصیتیں دی گئی ہیں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً کہ پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا وَبُعِثَتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّة ۲۵ مگر میں روئے زمین کے تمام آدمیوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قطعی طور پر بیان فرماتے ہیں کہ انبیائے سابقین میں ایک نبی بھی ایسا نہیں جو اپنی قوم کے سوا کسی اور قوم کی طرف مبعوث ہوا ہو۔لیکن مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان جنوں اور طیور کی طرف بھیجے گئے تھے۔اگر واقعہ میں حضرت سلیمان جنوں اور طیور کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نَعُوذُ بِاللهِ درجہ میں بڑھ گئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔پھر اگر یہ جن غیر از انسان ہیں تو جنوں کے انسان ہونے پر بعض اور دلائل وہ مخاطب کیونکر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ۲۶ فرماتا ہے۔وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ ٢٦ فرماتا ہے جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہونگے تو ہم جنوں سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ اے جنوں کے گروہ ! تم نے انسانوں میں سے اکثر لوگوں کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ہم تو جنوں کو تلاش کرتے کرتے تھک گئے مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ جنوں نے اکثر وں کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے حالانکہ ہم تلاش کرتے ہیں تو ملتے نہیں۔لوگ وظیفے پڑھتے ہیں ، چلہ کشیاں کرتے ہیں اور جب ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور خشکی سے کان بجنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں جن آ گیا حالانکہ اُس وقت ان کا دماغ بگڑ چکا ہوتا ہے۔تر و تازہ دماغ کے ہوتے ہوئے جن کبھی انسان کے پاس نہیں آتے۔اس جگہ جنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْإِنْسِ کہ ان کے اکثر انسانوں سے تعلقات ہیں۔اور انسان بھی کہیں گے کہ ہم ان سے بڑا فائدہ اُٹھاتے رہے مگر تم اپنے محلے اور گاؤں میں پھر کر لوگوں سے دریافت کر لو کہ کیا پچاس یا اکاون فیصدی لوگ جنوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔سو میں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ کہتا ہو کہ میں جنوں سے فائدہ اُٹھا تا ہوں اور میرے ان سے تعلقات ہیں۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس