انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 264

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات مِنْهُمْ مَّنْ قَضى نَحْبَهُ والی جماعت کی قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے قابل ہو۔اگر تم اس بات میں کامیاب ہو گئے تو یا درکھو تم ضرور جیت کر رہو گے۔خواہ میری زندگی میں یہ دن آئے یا میری موت کے بعد۔مگر وہی دن اسلام کیلئے خوشی کا دن ہوگا، وہی دن دشمنوں کی شرمساری کا دن ہوگا اور وہی دن مغرب سے سورج کے طلوع کرنے کا حقیقی دن ہو گا جس دن اسلام نئے سرے سے دنیا پر غالب آئے گا ، جس دن مغربیت پوری طرح کچل دی جائے گی۔جس دن اسلامی تہذیب اور اسلامی تمدن کی فوقیت دنیا پر ثابت ہو جائے گی تب وہی منافق جو آج مغربیت سے ڈر رہے ہیں، وہی منافق جو آج قربانیوں سے جماعت کے افراد کور وکتے اور یہ کہتے ہیں کہ جماعت کو تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے وہی سب سے زیادہ شور مچائیں گے اور کہیں گے کہ مغربیت سے زیادہ بُری اور کوئی چیز نہیں کیونکہ منافق لڑائی میں سب سے پیچھے رہتا ہے اور فخر میں سب سے آگے ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو پہلے ہی یہ کہا کرتا تھا۔اور اس طرح جھوٹ بول کر اپنی پچھلی حرکتوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔وہ کمزور طبائع جو آج مغربیت سے ڈر رہی ہیں اور وہ منافق جو جماعت پر دن رات اعتراض کرتے رہتے ہیں میں زندہ رہوں یا نہ رہوں مگر تم یاد رکھو ان لوگوں کو تم دیکھو گے کہ وہی جو آج یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مغرب کا مقابلہ کرنا کیسی نادانی ہے، جو آج یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جماعت کو ایک غلط راستہ پر چلایا جار ہا ہے ، وہی احمدیت کی فتح کیلئے سب سے زیادہ شور مچائیں گے اور کہیں گے کہ ہم بھی ہمیشہ سے مغربیت کے مخالف تھے اُس دن تم کو محسوس ہوگا کہ مومن اور منافق میں کتنا عظیم الشان فرق ہوتا ہے۔مومن قربانی کرتا اور پھر فخر کرنے سے اجتناب کرتا ہے اور منافق قربانی سے بھاگتا اور فتح کے وقت شور مچانے والوں میں سب سے آگے ہوتا ہے۔پس میں پھر طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے اپنی اس تقریر کو ، جو لمبی نہیں ہونی چاہئے تھی کیونکہ مجھے کھانسی کی زیادہ تکلیف تھی لیکن جوش کی وجہ سے لمبی ہوگئی ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے امریکہ میں جانے والے مبلغین کو اور اُن مبلغوں کو بھی جو پہلے سے مغرب میں موجود ہیں صحیح رنگ میں اسلام کی خدمت کی توفیق دے اور وہ اسلامی تعلیم کا سچا نمونہ ہوں۔بجائے دشمنوں کے اثر سے متاثر ہونے کے انہیں اسلام کی خوبیوں اور اس کے کمالات کے قائل کرنے والے ہوں اور ان کے ذریعہ جولوگ وہاں اسلام میں داخل ہوں وہ ایسے ہوں جنہوں نے صدق دل سے اسلام کو قبول کیا ہو اور اُس کی خوبیوں کو دیکھ کر اپنے اعمال