انوارالعلوم (جلد 14) — Page 236
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایا۔میں جانا بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔خواہ یہ جذباتی قربانی ہی ہے مادی نہیں کیونکہ ایسے شخص کو بہر حال وہاں کا آرام پہنچ رہا ہوتا ہے گو اس کے جذبات اور ہوں۔اصل اور حقیقی قربانی یہ ہے کہ مغربی روکا مقابلہ کیا جائے۔اگر ہم اس رو کا مقابلہ نہیں کرتے تو یقینی طور پر ہم اس مقصد میں ناکام رہتے ہیں جس مقصد کے پورا کرنے کیلئے ہمیں بھیجا جاتا ہے یا جس مقصد کے پورا کرنے کیلئے ہم نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔پس اس امر کا کوئی سوال نہیں کہ وہاں ایک شخص مسلمان ہوتا ہے یا دو، اس امر کا کوئی سوال نہیں کہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے یا بُرا۔نتیجہ کے تم ذمہ وار نہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے لَا يَضُرُّكُم مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ اگر تم اسلام پر قائم رہتے ہو تو خواہ ساری دنیا اسلام پر قائم نہیں رہتی خدا تم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے کیوں اس قدر کوشش نہ کی کہ وہ اسلام لانے پر مجبور ہو جاتی لیکن اگر تم گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہو تو پھر خدا تم سے ضرور مواخذہ کرے گا۔پس جو شخص وہاں کے لوگوں کو مسلمان بنانے یا اُن کو مسلمان کہلانے کے شوق میں اسلامی تمدن ، اسلامی احکام اور اسلامی اصول میں سے ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بھی نظر انداز کرتا ہے وہ خدا کیلئے لوگوں کو مسلمان نہیں بناتا بلکہ اپنے نام اور اپنی شہرت کیلئے انہیں مسلمان بناتا ہے۔پھر اگر اس راہ میں وہ مر بھی جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے حضور کسی اجر کا مستحق نہیں ہوسکتا۔تاریخوں میں آتا ہے رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو جنگ میں کفار سے بڑے زور سے لڑ رہا تھا مجھے صحیح یاد نہیں کہ اُحد کی جنگ تھی یا کوئی اور بہر حال ایک جنگ میں ایک شخص نہایت جوش سے لڑائی کر رہا تھا اور کفار کو قتل کر رہا تھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے دنیا کے پردہ پر چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔صحابہ نے جب یہ سُنا تو وہ سخت حیران ہوئے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جو شخص اس وقت سب سے زیادہ اسلام کیلئے قربانی کر رہا ہے وہ دوزخی ہو۔ایک صحابی کہتے ہیں بعض لوگوں کے چہروں پر تر ڈد کے آثار دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔چنانچہ وہ اس کے ساتھ ہو لئے یہاں تک کہ اسی لڑائی میں وہ زخمی ہوا۔جب اُسے میدانِ جنگ سے الگ لے جایا گیا تو شدید کرب کی حالت میں وہ اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکالتا جن میں خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی اور اُس کے متعلق اظہارِ شکوہ ہوتا۔لوگوں نے جب دیکھا کہ