انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 227

انوار العلوم جلد ۱۴ کے ہاتھ میں ہے۔سر میاں فضل حسین صاحب کی المناک وفات پر خطاب غرض اللہ تعالیٰ نے ان پر وفات نہ آنے دی جب تک کہ انہیں ایسے مقام پر نہ پہنچا دیا کہ لوگوں نے سمجھا وہی اس وقت ہندوستان پر حکومت کر رہے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب تھا اُن لوگوں کو جو کہتے تھے کہ میاں سر فضل حسین نے چونکہ گورنمنٹ ہند میں ایک احمدی کو وزارت پر مقرر کرایا ہے اور وہ مرزائیت نواز ہیں، اس لئے ہم انہیں ذلیل کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا کہ جو شخص احمدیت کی خاطر اپنے نفس پر کوئی تکلیف برداشت کرے گا وہ گو احمدی نہ ہو ہم اسے بھی ذلیل نہیں ہونے دیں گے۔پس گوسر فضل حسین صاحب احمدی نہ تھے مگر چونکہ احمدیت کی وجہ سے لوگوں کی طرف سے ان پر اعتراض کیا گیا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں اپنی غیرت کا مظاہرہ کیا اور انہیں غیر معمولی طور پر عزت کے ایک مقام پر پہنچا کر بتا دیا کہ جو شخص احمدیت کیلئے اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنے کیلئے تیار ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کیلئے بھی اپنی غیرت کا اظہار کیا کرتا ہے۔( الفضل ۱۲۔جولائی ۱۹۳۶ ء )