انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 221

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔سکوں اور نہ معلوم اسے عبور کر سکوں یا نہ کر سکوں مگر کوئی سمجھدار اور باشعور انسان پانی کے قطرہ سے نہیں ڈرتا۔صلى الله پس جو شخص قطرے سے ڈرے اس کے متعلق سمجھ لو کہ اسے ہلکے گتے یعنی شیطان نے کاٹا ہے کیونکہ تحریک جدید ایک قطرہ ہے قربانیوں کے سمندر کے مقابلہ میں۔اب جو شخص اس قطرے سے خائف ہے یقیناً اسے ہلکے گنتے نے کاٹا ہے۔یعنی یقیناً اس پر شیطان نے غلبہ کیا ہوا ہے اور اس کا ایمان ضائع ہو چکا ہے۔پس اس قطرے کا نگل لینا کونسا مشکل کام ہے۔ابھی تو اس سمندر میں تمہیں تیرنا ہے۔جس سمندر میں تیرنے کے بعد دنیا کی اصلاح کا موقع تمہیں میسر آئے گا۔کیا قرآن میں یہ آیت پڑھتے وقت کہ یرَتِ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً تمہارے دل میں یہ درد پیدا نہیں ہوتا۔کہ کاش ! جس وقت محمد ﷺ اپنے خدا کے سامنے یہ ہیں کہ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا، اس وقت وہ ایک استثناء بھی کریں اور وہ استثناء تمہارا ہو۔جس وقت وہ یہ کہیں کہ اے میرے رب! میری قوم نے تیرے اس قرآن کو چھوڑ دیا تو اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہیں کہ میں اس قوم اور اس جماعت کو مستی کرتا ہوں۔کیا یہ خواہش تمہارے دلوں میں کبھی پیدا ہوتی ہے یا نہیں۔اور اگر ہوتی ہے تو تم قربانیوں کیلئے کیوں آمادہ نہیں ہوتے۔کب تک تم کو سُنانے والے سنائیں گے ، کب تک تم کو جگانے والے جگائیں گے۔ہر دن جو گذر رہا ہے وہ تم کو اس چشمہ سے دُور کر رہا ہے جس چشمہ سے تمہاری نجات وابستہ ہے، جس چشمہ سے تمہاری حیات وابستہ ہے۔پس ہوشیار ہو جاؤ اور بیدار ہو جاؤ اور اس دن کا انتظار نہ کرو کہ جب تمہیں جگانے والے نہیں رہیں گے اور نہ ہوشیار کرنے والے رہیں گے۔آج تمہارا بوجھ بٹانے والے دنیا میں موجود ہیں۔مگر وہ ہمیشہ نہیں رہ سکتے کیونکہ خدا کی یہ سنت چلی آئی ہے کہ بوجھ بٹانے والے وہ ہمیشہ ساتھ نہیں رکھتا۔پس اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور چھوٹے چھوٹے امتحانوں میں کامیاب ہونے کی کوشش کرو تا بڑے امتحانوں میں تم کامیاب ہو سکو۔تم نیت کر لو اور ارادہ کر لو اس بات کا کہ تم خدا کیلئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی انکار نہیں کرو گے، تم نیت کر لو اور ارادہ کر لو اس بات کا کہ اگر تمہیں خدا کیلئے اپنے کسی عزیز اور رشتہ دار کو چھوڑنا پڑے تو تم اسے بخوشی چھوڑنے کیلئے تیار ہو گے، تم نیت کر لو اور ارادہ کر لو اس بات کا کہ تم خدا کیلئے ہر قسم کی موت قبول کرنے کیلئے تیار رہو