انوارالعلوم (جلد 14) — Page 163
انوار العلوم جلد ۱۴ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمت کو قبول فرمائے۔میرا احساس یہ ہے کہ ہمارے دوستوں میں اب شور کم اور کام زیادہ ہوتا ہے۔پہلے ملاقاتوں سے زیادہ بوجھ : مجھ پر یہ ہوتا تھا کہ میرے پاس مختلف شکایتیں آتیں اور مجھے ان پر توجہ کرنی پڑتی لیکن اب شکایتوں کا سلسلہ بہت کم ہے۔ممکن ہے بعض اس فن کے بھی ماہر ہوں کہ شکایتیں کم پہنچنے دیں لیکن میرا ذہنی بوجھ اس طرف سے بہت کم ہو گیا ہے جس سے میں اندازہ لگا تا ہوں اور میرا اندازہ صحیح ہے کہ ہمارے دوستوں کو کام کرنے کی آہستہ آہستہ مشق ہو گئی ہے اور مشق ہو جانے کی وجہ سے وہ گھبراتے نہیں اور نہ گھبرانے کی وجہ سے شور نہیں کرتے اور شور نہ ہونے کی وجہ سے بے چینی کا ماحول پیدا نہیں ہوتا۔بے شک زیادہ کام کرنے میں وہ اب بھی باہر کے لوگوں کیلئے نمونہ ہیں لیکن اگر اور زیادہ کاموں میں انہماک پیدا کریں تو میں سمجھتا ہوں لوگوں کیلئے زیادہ اچھا نمونہ بن سکتے ہیں۔لجنہ اماءاللہ کے متعلق بھی میں نے دیکھا ہے، پہلے اس کے کاموں میں گھبراہٹ ہوتی اور شکایت آتی رہتی کہ کام کرنے والی عورتیں چلی جاتی ہیں لیکن اب سوائے پہلے دن کے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی اور باقاعدہ کام ہوتا رہا ہے بلکہ بعض باتوں میں لجنہ کا کام مردوں کی نسبت زیادہ سمجھ اور عقل کا ہوتا ہے۔مثلاً گھر میں پہرہ کے متعلق پہلے میں لجنہ کے کام کی حکمت نہیں سمجھا تھا اور میں نے خیال کیا کہ یہ عجیب سی بات ہے کہ ایک مرد کا عورتیں پہرہ دیں۔لیکن انہوں نے بتایا کہ ہماری اس سے یہ غرض ہے کہ اگر کوئی مرد بُرقعہ پہن کر عورتوں میں آ جائے تو آپ تو اس کا برقعہ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتے لیکن ہم عورتیں اس کا پتہ لگا سکتی ہیں۔تب میں سمجھا کہ انہوں نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا ہے۔مگر ایک بات میں تو میں نے ان کا انتظام مردوں سے بھی زیادہ اچھا دیکھا۔جب میں باہر نکلتا ہوں تو پہرہ دار مجھے اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ پتہ نہیں لگتا کہ کوئی آدمی کسی کام کیلئے جا رہا ہے بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی قیدی ہے جسے عدالت سے جیل خانہ میں لے جایا جا رہا ہے لیکن عورتوں میں مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں کسی پابندی کے نیچے ہوں۔جو عورتیں پہرہ کیلئے مقرر تھیں وہ ہمیشہ مجھ سے میں تمہیں قدم کے فاصلہ پر رہتیں اور ایسی خاموشی سے رہتیں کہ ایک دو دفعہ تو مجھے خیال ہوا کہ شاید ان کا انتظام ٹوٹ گیالیکن پھر معلوم ہوا کہ ایک عورت دور کھڑی تھی جو پہرہ کا تمام انتظام دیکھ رہی تھی۔یہ اس خوبی کا انتظام تھا کہ میں سمجھتا ہوں مردوں سے بھی اچھا تھا۔پھر اس میں کسی قسم کی غفلت نہیں تھی بلکہ ہوشیاری اور بیداری تھی لیکن میں سمجھتا ہوں پھر بھی مردوں میں سے ایک حصہ کا کام بہت اچھا ہورہا ہے۔