انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 161

انوار العلوم جلد ۱۴ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات مکان دینے کی ضرورت نہیں۔اگر جبر تو نہ ہو لیکن نیم جبری طریق ہو جس میں لوگوں کو محسوس نہ ہو کہ جبر ہو رہا ہے اور محلہ والوں میں سے ہر ایک سے کہا جائے کہ اپنے مکانات کا کچھ حصہ دو اور ان کے پیچھے پڑ کر اور اصرار کر کے مکانات لئے جائیں تو میں سمجھتا ہوں ، مکانات کافی تعداد میں مل سکتے ہیں۔اس طرح یہ بھی فائدہ ہو گا کہ اخلاص کی روح جماعت میں قائم رہے گی۔ور نہ آہستہ آہستہ یہ روح مرجاتی ہے۔بیرون قصبہ کے انتظام خوراک میں جو دقت پیش آتی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ باہر کے محلے نہایت وسیع ہو گئے ہیں۔بلکہ اندر کا حصہ اتنا وسیع نہیں جتنا باہر کا حصہ وسیع ہے، لیکن انتظامات کو وسیع نہیں کیا گیا۔میرے نزدیک آئندہ اس کے نظام میں تبدیلی ہونی چاہئے اور کارکنوں کی مجلس جو انتظامات جلسہ سالانہ کے متعلق غور کیا کرتی ہے، اسے اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے۔میرے نزدیک اگر دارالرحمت اور دارالعلوم کو الگ اور دار الفضل اور دارالبرکات کو الگ کر دیا جائے۔اور دارالفضل کے مشرقی یا دار البرکات کے مغربی حصہ میں نیا باورچی خانہ بنا دیا جائے تو بہت کچھ سہولت ہو سکتی ہے۔اس طرح امید ہے کہ ایک طرف دار الرحمت اور دارالعلوم کا انتظام عمدگی سے ہو سکے گا اور دوسری طرف دارالفضل اور دار البرکات کا انتظام اچھا ہو جائے گا۔ممکن ہے اس میں بعض وقتیں بھی پیش آئیں۔چنانچہ ہو سکتا ہے نیا انتظام کرنے میں تجربہ کار کارکن میسر نہ آئیں لیکن یہ کوئی ایسی روک نہیں جس سے یہ کام نہ ہو سکے۔تجربہ کار کا رکن دوسرے محلوں سے بھی دیئے جا سکتے ہیں اور پھر محلہ والے ایک دو سال کی مشق کے بعد اتنا تجربہ حاصل کر لیں گے کہ اپنے انتظام کو وہ خود چلالیں گے۔میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ ہمارے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام کرنے کی اتنی مشق ہوگئی ہے کہ پہلے جن کاموں میں وہ گھبراہٹ محسوس کیا کرتے تھے، اب ان کاموں کے کرنے سے نہیں گھبراتے۔اسی طرح محلوں کا الگ الگ انتظام ہونے کی وجہ سے ممکن ہے ابتداء میں کچھ نقائص واقعہ ہوں لیکن تجربہ ہو جانے کی وجہ سے یہ کام سہولت سے ہونے لگے گا۔منتظمین جلسہ سالانہ کو اگر مکانوں کے حصول میں دقت ہو تو انہیں چاہئے کہ مختلف مقامات پر زمین خرید لیں اور وہاں بیر کس تیار کریں۔یہ عمارتیں نہایت سستی بنائی جاسکتی ہیں۔گورنمنٹ ہمیشہ فوجیوں کیلئے بیر کس بنایا کرتی ہے۔اگر دار الرحمت اور دار الفضل میں اس قسم کی بیرکس بنا دی جائیں تو گو ہر سال ان پر کچھ نہ کچھ خرچ کرنا پڑے گا۔مثلا ممکن ہے دو ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہو جائے۔لیکن میں سمجھتا ہوں، اس طرح خرچ میں بہت کچھ کمی ہو سکتی ہے۔وہ مہمان جو ا