انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 133

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہیں اور جنہیں چھٹیاں مل سکتی ہیں، میں ان سب کو تحریک کرتا ہوں کہ ایک یا دو یا تین ماہ جتنا عرصہ کوئی دے سکے تبلیغ کیلئے دے۔یہ بھی نظلی نیکی ہے اور میں اس کیلئے کسی کو مجبور نہیں کرتا۔لیکن یہ بتا دیتا ہوں کہ اگر جماعت نے اس پر عمل نہ کیا تو اس کے نتائج نہایت خطر ناک نکلیں گے۔جماعت کی ترقی کیلئے یہ چیز نہایت ضروری ہے۔اور ہر فرد بشر کو آج نہیں تو کل اور گل نہیں تو پرسوں ایک نظام کے ماتحت اس میں لازمی طور پر حصہ لینا پڑے گا۔اور اگر تمام جماعت یا اس کا بیشتر حصہ اس تحریک میں حصہ لے کر مشق نہیں کرے گا۔تو بہت لوگ وقت پر کچے دھاگے ثابت ہو نگے جو ٹوٹ جائیں گے۔تبلیغ ایک اہم فریضہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسی صحیح صورت میں اسلام اور احمدیت کو ہمارے سامنے پیش کیا اور جو آپ نے تعلیم دی وہ اس قدر دلکش ہے کہ اگر ہم اس کو اصل صورت میں دنیا کے سامنے پیش کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی عدل اور انصاف رکھنے والا شخص اسے رڈ کر سکے بلکہ دنیا کا عقلمند اور دانا طبقہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ اسے مانے۔ایسی اعلیٰ اور مفید چیز کے ہوتے ہوئے بھی اگر ہم دنیا کو گمراہی میں مرنے دیں تو ہم پر بہت بڑی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی چھٹیوں کو تبلیغ کیلئے وقف کریں تا جر اصحاب اپنی تجارتوں میں سے وقت نکالیں اور اسے احمدیت کی تبلیغ میں صرف کرنے کیلئے ہمارے سامنے پیش کریں ، زمیندار اپنی زمینداری سے فارغ وقت نکالیں اور اسے احمدیت کی تبلیغ میں لگا ئیں ، ملازم اصحاب اپنی ملازمتوں سے چھٹی لے کر اسے تبلیغ کیلئے وقف کر دیں۔میں بتا چکا ہوں کہ کوئی احمدی ایسا نہیں جس کے مقابلہ میں اس سے کمزور شخص دنیا میں موجود نہ ہو۔پس یہ نہ کہو کہ ہم تبلیغ کیلئے جانہیں سکتے ، ہم عالم نہیں۔ہر احمدی سے زیادہ کمزور آدمی دنیا میں موجود ہے۔پھر احمدی ہونے سے تو انسان کی عقل پہلے سے بہت زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔اس صورت میں تو یہ وہم کرنا بھی غلطی ہے کہ ہم تبلیغ کیونکر کریں گے۔پانچویں تحریک یہ ہے کہ پیشہ ور لوگ اپنے آپ کو وقف کریں تا انہیں ہندوستان یا ہندوستان سے باہر ایسی جگہ بھیجا جا سکے جہاں وہ تبلیغ بھی کر سکیں اور مالی فائدہ بھی اُٹھا سکیں۔ہمارے ملک کے پیشہ ور عموماً ایسی جگہوں پر کام کرتے ہیں جہاں ان کا کام نہیں چلتا۔اگر وہ اپنے آپ کو پیش کریں تو انہیں ایسی جگہوں پر بھیجا جا سکتا ہے جہاں ان کا کام بھی چل سکے اور