انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 61

انوار العلوم جلد ۱۴ فوت ہو جاتی ہے۔آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیرز کور سے خطاب زکورے میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس کام کو جو آپ نے شروع کیا ہے، انہی چند دنوں تک محدود نہیں رکھیں گے۔ابھی تو یہ کام صرف کھیل تک ہی محدود ہے اور آپ لوگوں نے معمولی قواعد بھی نہیں سیکھے اس لئے ضرورت ہے کہ لمبے عرصہ تک اس پریکٹس کو جاری رکھا جائے۔بلکہ اُس وقت تک اس پریکٹس کو جاری رکھنا چاہئے جب تک کہ دنیا کی تمام کوروں کے مقابلہ میں آپ کی کور زیادہ اعلی نہیں سمجھی جاتی۔پس میں امید کرتا ہوں کہ تمام محلوں کے والٹنظیر زاپنے اپنے محلوں میں اس پریکٹس کو جاری رکھیں گے یہاں تک کہ دنیا کی ہر کور سے محنت ، مشقت ، قربانی اور کام کی عمدگی میں بڑھ جائیں اور کسی سے پیچھے نہ رہیں۔مومن کی یہ پختہ علامت ہے کہ وہ ہر کام میں اول نمبر پر رہتا ہے۔ایک بزرگ مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید گذرے ہیں۔وہ ایک جنگ پر جا رہے تھے کہ راستہ میں انہیں معلوم ہوا کہ ایک سکھ اتنا بڑا تیراک ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ سن کر انہیں اتنی غیرت آئی کہ باوجود اس کے کہ وہ ایک ضروری کام پر جا رہے تھے ، وہیں ٹھہر گئے اور دریائے اٹک میں انہوں نے تیرنے کی مشق شروع کر دی اور چالیس دنوں کے بعد اسے پہینچ دیا کہ میرا مقابلہ کر لو۔چنانچہ اس سکھ سے مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔تو سچا مومن ایک منٹ کیلئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اور اول درجہ پر چلا جائے اور یہ دوسرے نمبر پر رہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس کام کو جاری رکھیں گے اور روزانہ اس کی پریکٹس کریں گے۔کوئی کام مشق کے بغیر نہیں آسکتا اور نہ یہ کام مشق کے بغیر آ سکتا ہے۔پس اس کام کو مسلسل جاری رکھیں اور اس حد تک اس میں ترقی کریں کہ کسی میدان میں دنیا کی کسی کور کے سامنے بلکہ باقاعدہ نظام والی فوجوں کے سامنے بھی اگر کسی وقت کھڑا ہونا پڑے تو دیکھنے والے یہ نہ کہہ سکیں کہ احمدی نوجوان ان سے کم رہے ہیں۔یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ ان باتوں کو یاد رکھیں گے، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری نسلوں میں وہی قربانی اور ایثار کی روح پیدا کرے جو صحابہ میں تھی اور انہیں اتنی مہتم بالشان قربانیوں کی توفیق دے جو دنیا کو حیرت میں ڈالنے والی ہوں۔اس کے بعد افسر جس رنگ میں منتشر کرنا چاہیں منتشر کر سکتے اور آپ لوگ اپنے گھروں کو جاسکتے ہیں۔(الفضل ۲۶ نومبر ۱۹۳۵ء)