انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 447

447 انوار العلوم جلد ۳ کے لئے آتے ہیں۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان قاضی محمد علی صاحب کی وصیت جس کا میرے بیان میں ذکر ہے۔معہ دوسری متعلقہ دستاویزات پیش کی جاتی ہے۔دو درجن کے قریب وصیت کرنے والوں کی ایسی مثالیں ہیں کہ جنہوں نے وصیت کی اور ان کی کوئی جائداد نہ پائی گئی۔مگر ان کو مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔ایسے لوگوں کی فہرست موجود ہے۔ہماری جماعت کا محمد حسین کے قتل میں کوئی ہاتھ نہ تھا۔میرے خطبہ میں جو ۲۹۔اپریل ۱۹۳۰ء کے الفضل میں چھپا اس قتل کے متعلق اظہار افسوس کے الفاظ پائے جاتے ہیں۔مکہ۔مدینہ کو احمدی جماعت مقدس اور متبرک مقامات سمجھتی ہے اور میں نے خود حج کیا ہے۔اگر احمدیوں کے خلاف کوئی یہ الزام لگائے کہ مکہ و مدینہ کی عزت نہیں کرتے تو ہم اسے سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔چونکہ قاضی محمد علی صاحب نے دلیری سے اپنے جرم قتل کا اقرار کر لیا اور اس گناہ سے تو بہ کی اور ظاہر کیا کہ اس نے یہ فعل سلسلہ کی تعلیم کے خلاف کیا اور اپنی غلطی کا اقرار کیا اور قتل چونکہ عمداًنہ تھا، اس لئے اسے مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔الفضل ۵ - اگست ۱۹۳۴ ء کے صفحہ ۸ پر منافق کے متعلق جو حوالہ درج ہے۔اس میں بیان کیا گیا ہے کہ ایسے شخص کو میرے سامنے پیش کرو تا کہ اسے جماعت سے خارج کروں۔ہمیں اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے شریعت اسلام میں منع نہیں کیا گیا اگر کھانے اور پہننے کی ،، چیزوں کا استعمال مناسب حد کے اندر ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مشک اور عنبر استعمال فرماتے تھے۔یہ سیرت النبی ؟ صفحہ ۶۳۔حصہ اول جلد ۲ از مولانا شبلی میں بیان کیا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے بعض اوقات قیمتی کپڑے بھی پہنے۔یہ بات ابوداؤدصفحہ ۵۵۹ میں درج ہے۔ہر سال پانچ سے لے کر دس ہزار افراد تک کا جماعت احمدیہ میں اضافہ ہوتا ہے۔یعنی اس قدر لوگ احمدیت قبول کرتے ہیں۔۱۹۲۱ء میں پنجاب میں جو مردم شماری ہوئی اس میں احمدیوں کی تعداد ۲۸ ہزار لکھی گئی تھی۔اور ۱۹۳۱ ء کی مردم شماری میں ۵۶ ہزار قرار دی گئی۔سیف چشتیائی جو پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی نے لکھی ہے۔اس کے صفحہ ۱۰۴ پر حضرت