انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 326

326 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق زمانہ میں ایک مصلح پیدا ہو گا اور ہر مذہب والے سمجھتے تھے کہ ان کا پیغمبر دوبارہ دنیا میں آئے گا اور بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ میں بدی بہت پھیل جائے گی، چھوٹی لڑکیوں کے نکاح ہوں گئے ان سے بچے پیدا ہوں گئے امن کا زمانہ ہوگا، بچے سانپوں سے کھیلیں گئے اس زمانہ کو خدا نے صلح کا زمانہ قرار دیا تھا، بدھ کہہ رہے تھے مہاتما بدھ جو کہیں گے ہمیں منظور ہوگا، عیسائی تسلیم کرتے تھے کہ حضرت عیسی جو کہیں گے ہمیں منظور ہوگا۔مسلمان کہہ رہے تھے۔کہ جو امام مہدی کہیں گے ہم مانیں گے، ہندو کہتے تھے کہ جو کرشن کہیں گے ہمیں اس سے انکار نہ ہو گا تب خدا تعالیٰ نے ایک ہی شخص کو سب نام دیکر بھیجا جس نے کہا کہ میں ہی وہ شخص ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے تم سب لوگوں کے انتظار کے نتیجہ میں بھیجا ہے جس کا فیصلہ منظور کرنے کا تم نے اقرار کیا ہوا ہے۔میرا فیصلہ یہ ہے کہ نجات محمد کی غلامی میں ہے سب دنیا کی اقوام کا فیصلہ اسی کے ہاتھ پر ہے۔وگر نہ اگر حضرت عیسی آتے تو ہندو کہہ دیتے، ہمیں تو کرشن کا فیصلہ ہی منظور ہو سکتا ہے اور اگر کرشن آتے تو مسلمان کہتے ہم ان کی بات نہیں مان سکتے اسی طرح بدھ کے آنے کی صورت میں عیسائی انکار کر دیتے۔پس فیصلہ کی صورت یہی تھی کہ سارے نام ایک ہی شخص کے ہوں وہ آئے اور کہہ دے کہ جاؤ سب کے سب محمد کے پاس جاؤ کہ اسی میں تمہاری نجات ہے۔اپنی قوم کو مخاطب کر کے اس نے کہا کہ تم مجھے کا فر کہتے ہو مگر میرا مذہب سن لو جو یہ ہے کہ:۔بعد از خدا بعشق متخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم میں محمد کے عشق میں مخمور ہوں اور اگر اس کا نام کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔تم کہتے ہو میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کی ہے۔یاد رکھو میرا مقصد یہ ہے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کروں۔اول تو یہ ہے ہی غلط کہ میں کسی نبی کی ہتک کرتا ہوں ہم سب کی عزت کرتے ہیں لیکن اگر ایسا کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہو تو بے شک ہو۔میں نے جو دعوے کئے وہ اپنی عظمت و شان کے اظہار کے لئے نہیں، بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے کئے ہیں۔مجھے خدا کے بعد بس وہی پیارا ہے لیکن اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کا فرتم کو دنیا میں نہیں ملے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع میں میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلا ئیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہے۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم