انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 268

۲۶۸ انوار العلوم جلد ۳ مسجد کا دروازہ ہر مذہب کے عبادت گزاروں کیلئے گھلا رہنا چاہئے طرف جائے تو وہ دوڑ کر آتا ہے ہے۔پس جو خدا کے دین کی خدمت کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالی کی جزا بہت بڑی ہوتی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ یقیناً آپ کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھول دے گا۔آپ کی تبلیغ میں برکت دے گا اور لوگوں کے دلوں کو کھول دے گا مگر اس موقع سے فائدہ اٹھانا آپ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ جب اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے تو جو لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے وہ اس کی ناراضگی کے مورڈ بن جاتے ہیں۔شبلی ایک بزرگ گزرے ہیں جو پہلے بغداد کی حکومت کے ماتحت ایک زبر دست گورنر تھے۔اس بادشاہ کا ایک بڑا جرنیل تھا، وہ دربار میں پیش ہوا اور بادشاہ کے سامنے اپنی خدمات بیان کیں۔بادشاہ بہت خوش ہوا اور اسے ایک قیمتی خلعت دیا کہ پہنو۔اس نے پہنا تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسے چھینک آئی اسے نزلہ کی شکایت تھی اس نے اِدھر اُدھر ٹولا مگر جیب سے رومال نہ ملا۔ادھر ناک بہہ پڑا اور اسے فکر ہوا کہ بادشاہ کے سامنے اس کا ناک بہہ رہا ہے تو اس نے نظر بچا کر اسی خلعت کے دامن سے ناک پونچھ لی مگر بادشاہ نے دیکھ لیا اور اسی وقت حکم دیا کہ خلعت اُتارلو اور اسے اس کے درجہ سے برخاست کر دو کیونکہ اس نے میرے خلعت کی ہتک کی ہے۔شبلی نے یہ حالت دیکھی تو چیخ ماری اور زار زار رونے لگے۔بادشاہ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس شخص نے سالہا سال تک اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور آپ کے لئے ملک فتح کئے لاکھوں لوگوں کو آپ کا غلام بنایا' ہر روز جب وہ جنگ کے لئے جاتا تو وہ اپنے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنا کر جاتا اگر آپ نے ایک لاکھ روپے کا خلعت بھی اسے دے دیا تو اس کی خدمات کے مقابلہ میں اس کی کیا قیمت ہے مگر اس خلعت کو خراب کرنے پر آپ اس قدر ناراض ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے جو خلعت مجھے دیا ہے اسے آپ کی خاطر میں ہر روز خراب کرتا ہوں اس لئے مجھے خیال آیا ہے کہ میری سزا کیا ہوگی۔یہ کہہ کر انہوں نے اسی وقت گورنری سے استعفیٰ پیش کر دیا اور مختلف بزرگوں کے پاس گئے چونکہ وہ سخت ظلم کرتے رہے تھے ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ تمہاری توبہ قبول ہونی مشکل ہے۔آخر وہ حضرت جنید بغدادی کے پاس پہنچے۔انہوں نے کہا آپ کی توبہ قبول ہو سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ جہاں آپ گورنر تھے وہاں جائیں اور ہر دروازہ پر جا کر دستک دیں اور معافی مانگیں اور کہیں کہ میں نے آپ کا جو کچھ دینا ہے لے لو۔یہ کتنا مشکل کام ہے۔اگر کسی معمولی افسر سے بھی کہو کہ ایسا کرے تو وہ اس کیلئے آمادہ نہیں ہو گا مگر انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر بہت بڑے بزرگ بن گئے۔تو اللہ تعالیٰ کے خلعت کی ناقدری بہت بڑی سزا کا موجب بن جاتی ہے۔اس کام کے بدلہ میں